سہارنپور  کے علاقہ مرزاپور کے گاؤں(حبیب پور تپوون) خواص پور میں آتشزدگی کا سانحہ,37 گھرانوں پر آگ,آل انڈیا ملی کونسل ضلع سھارنپور کے ایک وفد نے گھاڑ علاقہ کے اس گاؤں کا دورہ

گزشتہ کل ضلع سہارنپور  کے علاقہ مرزاپور کے گاؤں(حبیب پور تپوون) خواص پور میں آتشزدگی کا سانحہ پیش آیا جس کی وجہ سے گاؤں کا کافی حصہ متآثر ھوا،اور تقریباً 37 گھرانوں پر آگ قھر بنکر ٹوٹ پڑی،
اور کمزور لوگوں کے آشیانوں کو چند لمحات میں خاکستر کرتی چلی گئ
آج شام اسی جزبہ احساس کے تئیں اپنا دینی،ملی، انسانی اور علاقائ، فرض سمجھتے ھوئےآل انڈیا ملی کونسل ضلع سھارنپور کے ایک وفد نے گھاڑ علاقہ کے اس گاؤں کا دورہ کیا، اور متآئثرین کا حال چال جانا،
ایک ایسے گھرانہ پر اترنا ھوا جس کی تمام چھپر کی جھونپڑیاں آنا فانا میں کچی دیواروں سے غائب ھوئیں،اور جو اندر ضروریات زندگی کا سامان تھا سب ختم ھو گیا ،
متآثرین کی زبانی وہ درد بھری کھانی اب بھی دل کو جھجھوڑ رھی ھے کہ جو غلہ سال بھر کے لیے جمع کرکے چھپر نماں گھروندوں میں رکھا تھا سب جلکر خاک ھو گیا اور تمام کپڑے بھی جو رکھے تھے جل گئے بس جو بدن پر کپڑے ھیں وھی باقی ںیں ،
ایک بڑی فیملی کے زمہ دار چودھری صاحب جو گزشتہ کل اپنے اھل و عیال میں موجود نھی تھے، بلکہ اپنے بچوں کے لیے روزی روٹی کمانے کے لیے بھت دور مزدوری کے لیے پھلے سے ھی گھر سے باھر تھے ،ھماری حاضری سے تھوڑی دیر پھلے آئے اور اپنی آنکھوں سے اپنا چھکتا،پھلتا پھولتا خوابوں کا محل انھیں اجڑا چمن ملا تو وہ اپنے جزبات پر قابو نہ رکھ سکے اور دھاڑیں مار کر اپنا غم بیان کرنے لگے، انکی آنکھوں میں مایوسی کے سائے اور یے منظر دیکھ کر وھاں موجود ھر شخص کی آنکھیں اشکبار ھو گئیں ،
بڑی مشکل سے حقیر نے اپنے جزبات پر کنٹرول کرکے انکو ڈنھاڈس بندھائ،
صبر کی تلقین کی، اور تسلی بھرے الفاظ سے انکا غم غلط کرنے کی کوشش کی، اور تمام حاضرین کو یھی بات سمجھائ کہ سب کچھ الله ھی کی امانت ھے وھی دیکر بندہ کو آزماتے ھیں کہ دیکھوں میرا بندہ سھولت و فراوانی میں میرا شکر بجا لاکرمجھے کس طرح یاد رکھتا ھے، اور اللہ لیکر آزماتے ھیں کہ دیکھوں میرا بندہ تنگ دستی و بے سروسامانی میں صبر کرکے کس طرح میرے کفیل ھونے پر اپنے پختہ مومن ھونے پر امتحان میں کھرا اترتا ھے ،
بھر حال اللہ کی توفیق سے ھم کمزور و ناتواں ساتھیوں سے جو بن پڑا وہ ان حضرات کو پیش کیا اور آئندہ معاونت کا اپنی جانب سے بھروسہ دلایا،
ملی کونسل ضلع سھارنپور کا صدر ھونے کی حیثیت سے میں عبدالمالک مغیثی سھارنپور انتظامیہ کے زریعہ اترپردیش کے وزیر اعلی یو گی آدتیہ ناتھ کی توجہ اس گھاڑ علاقہ کے لیے دلانے کی مانگ کرتا ھوں کہ ابھی تک ایسے حساس اور وسائل کے اعتبار سے کمزور علاقہ میں جھاں پانی کی اتنی قلت کہ اگر ایسے سنگین حالات پیدا ھو جائیں تو پانی دستیاب کرنا ایسا ھے جیسے فرحاد کا پھاڑوں کو توڑکر نھر بنانا ،ایسے علاقہ میں فوراً ایک فائر برگیڈ اسٹیشن بنانا چاھئے جو مرازاپور قصبہ کے قریب بنے جو مرکزی جگہ ھے،
اخیر میں رخصت لیتے ھوئے کہ ھم تمام لوگ مخلوق خدا کی کفالت کی طاقت بھی نھی رکھتے،
الله ھی کی طرف ںم سب کو رجوع کرنا چاھئے

“حال دل کس کو سنائے۔آپ کے ھوتے ھوئے”
“کیوں کسی کے در پہ جائیں۔ آپ کے ھوتے ھوئے ”

جامعةالشیخ عبدالستار نا نکہ کے ناظم ،مفتی عطاء الرحمن جمیل قاسمی نے بھی متآثرین کو دلاسہ دیتے ھوئے ھر ممکن تعاون کی یقین دھانی کرائ،
وفد میں مولانا دلشاد مظاھری ،ناظم مدرسہ حیات العلوم، گندیوڈ، مولانا سرور عالم قاسمی،مولانا مکرم ،ناظم مدرسہ،مگن پورہ ،قاری مستفیض کاشفی، مولانا ارشد ندوی، ماسٹر ارشاد،قاری وسیم ،عبدالباطن مغیثی شامل تھے،
جاتے وقت مفتی عبدالسمیع قاسمی صاحب سے میری ٹیلیفون پر بات ھوئ ، سوئے اتفاق کہ وہ دھلی میں ھیں ،
جاری کردہ۔شعبہ نشر و اشاعت
آل انڈیا ملی کونسل ضلع سھارنپور
ھیڈ آفس۔ جامعہ رحمت گھگھرولی