حیااورپاکدامنی کےفواٸد

بسم اللہ الرحمن الرحیم
حیااورپاکدامنی کےفواٸد
از: محمد امین الرشید
حیاء سے شرمندگی آتی ہے ،بری لت اور عادت قبیحہ  اس سے دور بھاگتی ہے، حیاء نہ ہوتو آدمی سب کر گزر تاہے، حیاء سے عمدہ اخلاق ہوتاہے، حیاء  تمام تر عمدہ اخلاق سے آراستہ وپیراستہ کرکے آدمی کو مزین بنادیتی ہے، حیا نہ ہونے سے مال کی کمی، نیک کاموں سے ،بے رغبتی  ،وعدہ خلافی ،رشتہ داروں کا پاس لحاظ کافور ہوجاتاہے، اسی طر ح حیا کے ختم ہوتے ہی قدم قدم پہ برائی کرنے لگتا ہے ،اور ایسا آدمی ذلیل وخوار ہوتا ہے،
 اللہ نے قران مقدس میں فرمایا الشیطن یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء واللہ یعدکم مغفرۃ منہ وفضلا واللہ واسع علیم
شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتاہے (یعنی بخل)کامشورہ دیتاہے اور اللہ تعالی تم سے وعدہ کرتاہے، اپنی طرف سے گناہ معاف کردینے کا اور زیادہ دینے کا ،اور اللہ تعالی وسعت والے ہیں خوب جاننے والے ہیں، ان اللہ یأمر بالعدل والاحسان وایتائ ذالقربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی یعظکم لعلکم تذکرون
 بے شک اللہ تعالی اعتدال اور احسان اور اہل قرابت کو دینے کاحکم فرماتاہے، اور کھلی برائی اور مطلق برائی اور ظلم کرنے سے منع فرماتے ہیں ،اللہ تعالی تم کو اس کے لئے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو
یاایھاالذین آمنوا لا تتبعوا خطوت الشیطن ومن یتبع خطوت الشیطن فانہ یأمر بالفحشاء والمنکر ولولافضل اللہ علیکم ورحمته مازکی منکم من احدا ابدا ولکن اللہ یزکی من یشاء واللہ سمیع علیم
 اے ایمان والو شیطان کے قدم بقدم مت چلو ،اور اگر کوئی شیطان کے پیچھے پیچھے چلے تو شیطان ہمیشہ بے حیائی اور بدی کی تلقین کرے گا ،اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی ،تم میں سے کوئی بھی پاک صاف نہ ہوتا، لیکن اللہ جس کو چاہتاہے پاک صاف کردیتاہے اور اللہ ہر بات سنتا اور ہرچیز کو جانتاہے،
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں
اور حیاء بھی ایمان کی شاخوں میں سے حیاء ایک شاخ ہے (بخاری)
 کم گوئی ایمان کی نشانی ہے الحیاء والعی شعبتان من الایمان حضرت امامہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاشرم وحیاء اور زبان کو قابو میں رکھنا،، ایمان کی دوشاخیں ہیں ،جب کہ فحش گوئی اور لاحاصل بکواس، نفاق کی دو شاخیں ہیں، حیاء سے ایمان میں مضبوطی آتی ہے،
 الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء
 کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالی کیسی مثال بیان فرمائی  ہے، کلمۂ طیبہ ،کلمۂ توحید ایمان کی وہ مشابہ ہے، ایک پاکیزہ درخت کے جس کی جڑ خوب گڑی ہوتی ہو ،اس کی شاخیں اونچائی میں جارہی ہوں
اللہ ہم سب کو حیاء والی صفت سے متصف بنادے آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد امین الرشید  کنہواں ابن حضرت مولانا حافظ محمد ھارون الرشید صاحب المظاہری رحمۃ اللہ علیہ سابق استاد مدرسہ بیت العلوم سراۓ میر اعظم گڑھ یوپی