شاہین باغ کی تحریک اور دین و دنیا کی تفریق

شاہین باغ کی تحریک اور دین و دنیا کی تفریق

ڈاکٹر سلیم خان
اس دنیا میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ ایک تو وہ جو کام کرتے ہیں اور دوسرے جو تنازع
پیدا کرتے ہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری غیر فسطائی طاقتیں متحد ہوکر سی اے اے اور این
آر سی کے خلاف جدو جہد کررہی ہیں ایک نام نہاد دانشور کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں اس
کے ذریعہ اسلام پسند تنظیموں میں نہ شامل ہوجائیں یا اس میں کام کرتے ہوئے ان کی سیکولر شناخت
نہ متاثر ہوجائے۔ ان خطرات سے اپنے بھکتوں کو خبردار کرنے کے لیے( وہ اخباری مضمون میں )
خوب اِدھر اُدھر کی ہانکتے ہیں اور بالآخر اپنے مطلب پر آجاتے ہیں۔ ابتداء ماضی کے حوالوں سے
ہوتی ہے اور ان کا اپنی مخصوص سرخ عینک سے جائزہ لینے کے بعد اس پر اطمینان کا اظہار کیا
جاتا ہے اس بار مسل مرد و خواتین ایک ساتھیر مسلم کے تعاون سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے
ہیں ، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ مردو خواتین چونکہ ایک گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہمیشہ
ساتھ رہتے ہیں ۔ جب مرد میدان میں نکلتے ہیں تو گھر میں خواتین ان کے پیچھے ہوتی ہیں اور جب
خواتین باہر نکلتی ہیں تو مردگھر کی خبر گیری کرتے ہیں ۔ کبھی کبھار وہ ایک ساتھ بھی نظر آتے
ہیں لیکن حقیقت میں وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن ظاہر بین نگاہوں ان کو نہیں
دیکھ پاتیں ۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ حکومت تمام مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق پامال کررہی ہے اور ان
کو آپس میں لڑا کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے عوام کا بلاتفریق مذہب ملت میدان میں
اتر کر اس کا مقابلہ کرنا قابلِ ستائش ہے لیکن ایسے میں اپنے آپ کو سچا سیکولر ثابت کرنے کے
لیے یہ راگ الاپنا کہ لوگ مذہب کی لڑائی نہیں بلکہ حق کی جنگ لڑ رہے ہیں بے وقت کی راگنی
ہے ۔ ان بیچاروں پر مسلمانوں کا نام لینے کے بعد مذہب کی مخالفت لازم ہوجاتا ہے ۔ انہیں اس بات کا
اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں سیکولر غیر مسلم ان کو انتہا پسند نہ سمجھ لیں اور اس طرح ان کی
برسوں کی بنائی ہوئی ساکھ کو خطرہ نہ لاحق ہوجائے۔ جب یہ لکھ دیا کہ یہ مذہب کی جنگ نہیں
ہے تو یہ بھی لکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ مذہب کی لڑائی کون لڑ رہا ہے ؟ ایسا کرتے ہوئے یہ
لوگ تہمت بازی اور کتمانِ حق کا ارتکاب کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اپنے سے نظریاتی
اختلاف رکھنے والوں کو داعش وغیرہ سے جوڑ دیتے ہیں جبکہ خود ان کوبلاوجہ ماونواز قرار دے
کر ڈرایا گھمکایا جارہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے سارا کھیل رواداری کی آڑ میں ہوتا ہے۔
دانشوروں کی اس خیالی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں منظر یکسربدل جاتا ہے۔ جنوری ۱۵ ،
؁۲۰۲۰کو ایک طرف تو شہریت ترمیمی قانون، این آرسی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں
جاری خواتین کے مظاہرہ کوہٹانے کے لیے عدالت نے فیصلہ صادر کیا اور دوسری جانب پنجاب
سے آنے والے سکھوں کے ایک دستے نے شاہین باغ پہنچ کر نہ صرف اپنی حمایت کا اعلان کیا
بلکہ ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا۔یہ لوگ رات کے تقریباََ ڈیڑھ بجے ’’ تم سنگھرش کرو ہم تمہارے
ساتھ ہیں‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے شاہین باغ اسکوائر پر پہنچے ۔ اس طرح شاہین باغ نے مذہبی
یگانگت، قومی اتحاد اور آئین کے خلاف جنگ کا ایک منفرد نظارہ پیش کردیا۔اس وفد کے لوگ
جانتے تھے کہ ان کا تعلق سکھ برادری سے ہے اور وہ مسلم سماج کی حمایت میں آئے ہیں لیکن ان
عام لوگوں کو اس سے نہ کوئی پریشانی تھی اور نہ کسی قسم کا احساسِ جرم تھا۔

پنجاب کے ضلع بھٹنڈہ سے اس وفد کے ساتھ آنے والی کلدیپ کور نے شاہین باغ پہنچ کر نامہ
نگاروں کو بتایا کہ ہم لوگ شاہین باغ میں قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کی
مخالفت کر نے والی مسلم خواتین کی حمایت کرنے کے لیے آئے ہیں۔انہوں نے حکومت پر الزام لگایا
کہ وہ فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظہرقانون بناکرعوام کو لڑانے کا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مودی
حکومت کو ایسی حرکتوں سے باز آنے کی تلقین بھی کی ۔ وفد کےشرکاء نے اس عزم کا اظہار
کیاکہ ہم ایک ساتھ ہیں اور ایک ساتھ رہیں گے، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں الگ نہیں کرسکتی۔ لڑانے
والی حکومت کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔ ان لوگوں نے اعتراف کیا کہ شاہین باغ کی
تحریک آئین کے تحفط ، سماجی مساوات اور ہم آہنگی و مشترکہ تہذیب کی حفاظت کے لئے چلائی
جارہی ہے۔ یہاں آکر بہت اچھا لگ رہا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ہم آہنگی کو فسطائی عزائم کے ساتھ
ساتھ اپنی نظریاتی برتری ثابت کرنے کی غرض سے عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا
کرنے والے دانشوروں سے بھی خطرہ لاحق ہے۔
دہلی میں تو علامتی طور ایک چھوٹا سا دستہ آیا لیکن شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پنجاب میں
کئی دنوں سے ہر روز ہزاروں خواتین سڑکوں پر آ کر احتجاج درج کر رہی ہیں۔ ان احتجاجی
مظاہروں میں سبھی طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین شرکت کرتی ہیں۔ لدھیانہ میں سبھی مذاہب
کی ہزاروں عورتوں نے سی اے اے کے خلاف کئی کلو میٹر طویل زور دار احتجاجی جلوس نکالا۔
اس مظاہرہ کی قیادت پنجاب یونیورسٹی کے طلبا یونین کی رہنما کنوپریا، فتح چینل کی نودیپ
کوراور سماجی جہت کار نسرین سلطانہ نے کی۔ اس احتجاج کی انفرادیت یہ تھی کہ جلوس کے
اختتام پر خواتین نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اپنے خون سے تحریر شدہ ایک عہد نامہ
لدھیانہ کی تاریخی جامع مسجد کے شاہی امام کے حوالے کرکے اس کے غیر مذہبی ہونے کی خوش
فہمی دور کردی ۔ پنجاب ایک زمانے تک اشتراکی تحریک کا ایک بہت بڑا مرکز رہا ہے ۔ وہ خواتین
کسی لامذہبی رہنما کی خدمت میں جاکر بھی اپنا عہدنامہ پیش کرسکتی تھیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں
کیا کیونکہ نہ تو وہ کسی احساسِ جرم کا شکارہیں اور نہ انہیں اپنی بے دینی کا ڈھنڈورا پیٹنا ہے۔
سر زمینِ پنجاب پر چشم فلک نے پہلی باریہ نظارہ دیکھا کہ دخترانِ پنجاب نے خون جگرسے
تحریر کردہ عہد نامہ میں لکھا’’اپنے خون کے آخری قطرے تک آئین کو توڑنے کی سازش کے تحت
بنائے گئے اس قانون کے خلاف متحد ہو کر احتجاج کرتی رہیں گی۔ ہندوستان کی جنگ آزادی میں ہم
سب ساتھ تھے اور کوئی بھی بزور قوت ہمارے بھائی چارہ اور انفرادیت میں اتحاد کی علامت کو
توڑ نہیں سکتا۔پناہ گزین مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت اور ہندوستانیت کی بنیاد پر ہمارے بھائی
بہن ہیں، لیکن حکومت پناہ گزینوں کی آڑ لے کر ملک میں جمہوریت کے قتل کی کوشش کر رہی
ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ اس عہد نامہ کی روشنائی میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی
ہر مذہب کی خواتین کا خون شامل تھا ۔
پنجاب کی جامع مسجد کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کی خدمت میں جس وقت یہ
عہدنامہ پیش کیا گیا تو وفورجذبات سے سرشار ہوکر انہوں نےجرأتمندی کے ساتھ کہا ’’مودی
حکومت ملک کی بیٹیوں کے سوالوں سے بھاگ رہی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ان کو ایوان کے
منظور شدہ قانون کے خلاف اپنے حقوق کی خاطراحتجاج کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ تمام مذاہب
کی خواتین کا یہ مشترکہ مظاہرہ غیر معمولی ہے۔‘‘لدھیانہ کے جلوس میں خواتین کے ہاتھوں میں
پلے کارڈ ان کے قلبی جذبات و احساسات کے عکاس تھے۔ وہ پکار پکار کر کہہ رہی تھیں ’ہندو،
مسلم، سکھ، عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی‘ اور ’ایک بھارت، اٹوٹ بھارت، پیارا بھارت‘ ۔ کاش کہ

اٹھتے بیٹھتے بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانے والے جعلی دیش بھکت مادرِ وطن کی مخلص و
مضطرب بیٹیوں کی ان فلک شگاف نعروں کو سن پاتے ۔
’ورودھ منچ‘کے اس تاریخی جلوس میں جوش و خروش کے ساتھ سرزمین پنجاب کے عظیم سپوت
فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ پڑھی گئی تو سارے شرکاء نے مغنی کی آواز میں آواز
ملائی ۔ اس طرح یہ تحریک سرحدی تفریق و تعصب کو عبور کرکے آگے بڑھ گئی ۔ پنجاب
یونیورسٹی کے طلباء کی رہنما کنوپر یانے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ فرقہ پرست طاقتیں
ہندوستان کے اتحاد و سالمیت کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ ملک کی ماں بہنیں اور بیٹیاں مودی حکومت کے
ناپاک منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔ روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کرنے والے آج ملک
میں اپنی ہی عوام سے شہریت کا سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں۔ پنجاب کے ہر شہر میں خواتین ہزاروں
کی تعداد میں جمع ہو کر اس قانون کی مخالفت کر رہی ہیں ‘‘۔ جلوس کے اختتامی خطاب میں نسرین
سلطانہ نے گونگی بہری مرکزی حکومت کو خبرادار کیا کہ ’’اس قانون کے خلاف پنجاب کی
خواتین کا اتحاد مودی حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج اور خطرے کی گھنٹی ہے ‘‘۔
گودی میڈیا کے اس دور میں لدھیانہ کے جلوس قیادت کرنے والی ’فتح ‘ چینل کی جرأتمند صحافی
نودیپ کور نے اس موقع پر سنگھ پریوار کو خبردار کیا کہ ’’سی اے اے اور این آر سی کے
حامیوں کو ہوش میں آ کر دیکھنا چاہیے کہ تمام طبقات کی خواتین اس فسطائی قانون کے خلاف ہیں۔
کہیں اور دکھائی نہیں دے رہا تو پنجاب آ کر دیکھ لینا چاہیے۔‘‘ اس احتجاج کے اندر عوام نے جس
باہمی اعتماد کا مظاہرہ کیا اس اندیشوں کا شکار دانشور محروم ہیں اس لیے وہ مذہبی اور غیر مذہبی
کی بحث چھیڑ دیتے ہیں ۔ اس کنفیوژن کی بنیادی وجہ دین دنیا کی تفریق ہے۔ دین کا محدود تصور
رکھنے والے علماء جس قدر اس مرض کا شکار ہیں اس سے بڑے اس کے مریض دین کے
ناقص تصور کے حامل دین بیزار دانشور ہیں ۔ وہ نہیں جانتے کہ دین اسلام حقوق اللہ اور حقوق
العباد کا حسین ترین امتزاج ہے ۔ اس میں اپنے اور دیگرانسانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا بھی خالص
دینی تقاضہ ہے ۔ دونوں کی مسئولیت یکساں ہے اور مزاحمت بھی عبادت کا حصہ ہے۔ یہ کسی
نام نہاد روشن خیال شاعر کا نہیں بلکہ مولانا الطاف حسین حالی کا شعر ہے کہ ؎
یہی ہے عبادت ، یہی دین و ایماں کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں