مذہبی بنیاد پر ہورہی تفریق سے متاثر ہوکر آئی آئی ٹی مدراس کی طالبہ فاطمہ لطیف کی خودکشی اور جے این یو میں فیس بڑھائے جانے کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی ممبئی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ

فاطمہ لطیف کی خودکشی اور جے این یو میں فیس بڑھائے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

مذہبی بنیاد پر ہورہی تفریق سے متاثر ہوکر آئی آئی ٹی مدراس کی طالبہ فاطمہ لطیف کی خودکشی اور جے این یو میں فیس بڑھائے جانے کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی ممبئی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا. چہارشنبہ کے روز ممبئی یونیورسٹی کے کالینہ کیمپس کے داخلے پر کئے گئے اس احتجاج میں کمیٹی کے تحت مختلف طلبائی اور سماجی تنظیموں نے حصہ لیا. واضح رہے کہ ٩ نومبر کو آئی آئی ٹی مدراس کی طالبہ فاطمہ لطیف نے خودکشی کی تھی اور اپنے نوٹ میں چند پروفیسروں کی جانب سے کیے جارہے مذہبی تعصب کا حوالہ دیا تھا. اس معاملے کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیے گئے اس مظاہرہ میں ایس آئی او، جی آئی او، سمیک آندولن، ویلفیئر پارٹی، فریٹرنٹی مومنٹ وغیرہ تنظیمیں شامل تھیں.مظاہرین نے کہا کہ یہ واقعات شاہد ہیں کہ تعلیمی اداروں میں دلت، اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے مواقع سکڑتے جارہے ہیں. انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیس میں اضافہ کے فیصلے کو واپس لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تعلیم استطاعت اور حیثیت سے ماورا ہر کسی کے لیے قابل رسائی ہو. انہوں نے انتظامیہ سے فاطمہ لطیف کی خودکشی کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا،جو مبینہ طور پر مذہبی تعصب کا سامنا کرنے کی بنا پر کی گئی. مظاہرین نے اسے “ادارہ جاتی قتل” کا نام دیا ہے.
اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایس آئی او کے نمائندے رافد شہاب نے کہا کہ “ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے اور ملزمین کو سخت سزا دی جائے. اس کے علاوہ مذہب، ذات، جنس وغیرہ کی بنیاد پر تفریق کا سامنا کررہے طلباء کی مدد اور ان کی شکایت کے ازالے کے لیے ہر تعلیمی ادارے میں مناسب نظم قائم کیا جانا چاہیے. ہم طلباء برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی تفریق کے خلاف آواز اٹھائیں، متعلقہ ذمہ داران اور سماجی تنظیموں تک اپروچ کریں اور تعصب اور ناانصافی کا ہمت سے مقابلہ کریں، خودکشی جیسے سنگین عمل کے بارے میں بالکل نہ سوچیں کیونکہ ہر طالب علم اہم ہے اور اسے حوصلہ اور پامردی کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنی چاہیے.”دِشا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نمائندے اویناش نے کہا کہ “یہ سارے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں. یہ احتجاج صرف جے این یو کے لیے نہیں ہے بلکہ تعلیم کے تجارتی کرن اور اسے چند مخصوص افراد کےلیے منافع کا ذریعہ بنائے جانے کے خلاف ہے. ایسی صورت میں غریب اور نادار طلباء کس طرح جے این یو میں تعلیم حاصل کر پائیں گے؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے اداروں میں مساوی اور مفت تعلیم کا انتظام کیا جائے. ایک تعلیم یافتہ ملک ہی ترقی کی راہیں طے کرسکتا ہے”.ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس (ٹی آئی ایس ایس) کے طالب علم چندرا مانی نے کہا کہ یہ مظاہرہ تعلیمی اداروں سے طلباء کو دور رکھنے کی کوششوں کے خلاف ہے. ملک بھر کے غریب طلباء جے این یو میں پڑھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن حکومت ان کے عزائم پر قدغن لگاتے ہوئے انہیں تعلیمی اداروں سے دور رکھنے اور ان اداروں کو برباد کرنے کی کوشش کررہی ہے. اگر طلباء ان تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرلیں تو انہیں تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، انہیں خودکشی کرنے یا ادارہ چھوڑدینے پر مجبور کیا جاتا ہے. اس حوالے سے ہمارے سامنے روہت ویمولا، پایل تڑوی اور اب فامطہ لطیف کی مثالیں موجود ہی