مہاراشٹر میں آیورویدا کے فروغ کے لئے منعقد ہونے والے پروگرام قابل ستائش مگر یونانی طریقہ علاج کے ساتھ سوتیلاسلوک کیوں ؟

مہاراشٹر میں آیورویدا کے فروغ کے لئے منعقد ہونے والے پروگرام قابل ستائش مگر یونانی طریقہ علاج کے ساتھ سوتیلاسلوک کیوں ؟

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- ریاست مہارشٹر میں یونانی طریقہ علاج کو لے کر یونانی ڈاکٹروں کے ساتھ ہمیشہ سے ہی سوتیلا سلوک حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے ۔ اسی طرح مہاراشٹر کونسل آف انڈین میڈیشن MCIM کی جانب سے آیورویدا طریقہ علاج کو فروغ دینے کے لئے جلد ایک پروگرام کا انعقاد پورے مہاراشٹر ریاست میں کیا جانے والا ہے ۔لیکن یونانی طریقہ علاج کو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی نظر انداز کرتے ہوئے درکنار کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں ڈاکٹر خورشید عالم قادری سابق رکن ایم سی آئی ایم ، بی یو ایم ایس بومبئے نے MCIM کونسل کے صدر ڈاکٹر اشوتوش گپتا بشمول رجسٹرار ڈاکٹر دلیپ وانگے ، آیوش منسٹر بھارت سرکار شریپد یسسو نائیک ( بھاو ) ، مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو تحریری مکتوب روانہ کرتے ہوئے اور بذریعہ ای میل سبھی سے اس مسئلے پر توجہ مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کے یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے کے لئے آیورویدا کی طرز پر یونانی کے لئے بھی متعدد پروگرام کا انعقاد کیا جائیں ۔
ڈاکٹر اس ضمن میں ڈاکٹر خورشید عالم قادری سابق رکن ایم سی آئی ایم نے بتایا کے مہاراشٹرا کونسل آف انڈین میڈیش جس طرح سے مہاراشٹر بھر میں آیورویدا پروکرتی پریکشن پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے وہ ایک قابل ستائش اقدام ہے ۔ جس کی ہم سراہنا کرتے ہے ۔ لیکن ہمارا مطالبہ ہے کے یونانی ڈاکٹروں کے ساتھ بھی اسی طرح حکومت انصاف کریں اور اسی طرز پر یونانی سسٹم آف میڈیشن کے فروغ کے لئے پروگرام کا انعقاد کیا جائیں ۔ انھوں نے اپنے مطالباتی میمورنڈم میں مزید کہا ہے کے آیورویدا ڈے کی طرح یونانی ڈے کے پروگرام بھی MICM کونسل کی طرف سے منعقد کئے جائیں ۔ ڈاکٹر خورشید عالم قادری سابق رکن ایم سی آئی ایم نے ریاست بھر میں یونانی طبی تنظیم ، اساتذہ ، ڈاکٹرس کو بیدار ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کے وہ بھی اس مسئلہ پر سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے مذکورہ کونسل اور متعلقہ ذمہداران و حکومت مہاراشٹر کو میمورنڈم اور ای میل بھیج کر اپنی ذمہ داری و بیداری کا ثبوت دیں ۔