بڑی خبر : ایودھیا متازعہ زمین بابری مسجد معاملے میں مسلم فریق کا حق نہیں ، ایودھیا کی متنازعہ زمین ہندو فریق کو دینے کا فیصلہ – ایودھیا کی متنازعہ زمین مسلم فریق کو نہیں دے کر ہندوؤں کو دی جائے گی اور اس کے لیے ایک ٹرسٹ کا قیام کیا جائے . عدالت عالیہ کا فیصلہ

بڑی خبر : ایودھیا متازعہ زمین بابری مسجد معاملے میں مسلم فریق کا حق نہیں ، ایودھیا کی متنازعہ زمین ہندو فریق کو دینے کا فیصلہ .

ایودھیا کی متنازعہ زمین مسلم فریق کو نہیں دے کر ہندوؤں کو دی جائے گی اور اس کے لیے ایک ٹرسٹ کا قیام کیا جائے . عدالت عالیہ کا فیصلہ

بابری مسجد اور رام جنم بھومی اراضی تنازعہ, بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ, بابری مسجد ملکیت مقدمہ, چیف جسٹس رنجن گوگوئی, رام مندر
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایودھیا کی متنازعہ زمین مسلم فریق کو نہیں دے کر ہندوؤں کو دی جائے گی اور اس کے لیے ایک ٹرسٹ کا قیام کیا جائے۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ فی الحال اس متنازعہ زمین کو حکومت اپنے قبضے میں لے گی اور دی گئی ہدایت کے مطابق آگے کی کارروائی کرے گی۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تین سے چار مہینے میں ایک ٹرسٹ بنائیں جس کے حوالے متنازعہ زمین کریں تاکہ مندر کی تعمیر ہو۔

سپریم کورٹ نے اپنے انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ میں کہا کہ مسلم فریق یعنی سنی وقف بورڈ کو متبادل جگہ فراہم کی جائے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ سنی وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ زمین الاٹ کیا جائے گا اور اس کے لیے مرکزی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے۔ متنازعہ زمین مرکزی حکومت کے حوالے کیے جانے کی بات بھی فیصلے میں کہی گئی ہے اور اس سے متعلق کچھ احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا ہے کہ رام چبوترہ باہری حصے میں بنایا گیا اور وہی ہندوؤں کی پوجا کا مرکز بنا۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ مسلم قبضے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کے اختیارات ہندوؤں سے زیادہ تھے اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ مسلمانوں نے مسجد چھوڑ دی تھی اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔
رام چبوترہ باہری احاطے میں بنا جہاں پوجا کیا جانے لگا
عدالت نے کہا ہے کہ رام چبوترہ باہری حصے میں بنایا گیا اور وہی ہندوؤں کی پوجا کا مرکز بنا۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ مسلم قبضے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کے اختیارات ہندوؤں سے زیادہ تھے اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ مسلمانوں نے مسجد چھوڑ دی تھی اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔
بابری مسجد میں نماز پڑھے جانے کے ثبوت موجود: سپریم کورٹ
چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اپنا فیصلہ پڑھتے ہوئے یہ بات بھی واضح کر دیا ہے کہ بابری مسجد میں نماز پڑھے جانے کے ثبوت موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوؤں کی رام کے تئیں عقیدت اور ان کے یقین پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا لیکن عقیدت اور یقین کا معاملہ نہیں بلکہ زمین کے مالکانہ حق کا معاملہ ہے۔
Supreme Court: Hindus have faith and belief that Lord Ram was born under the dome. Faith is a matter of individual belief. #AyodhyaJudgment https://t.co/iJ6Lj1SxnS — ANI (@ANI) November 9, 2019
خالی جگہ پر تعمیر نہیں ہوئی تھی بابری مسجد: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کی تعمیر خالی جگہ پر نہیں ہوئی تھی اور ایسا اے ایس آئی کی رپورٹ کو مدنظررکھتے ہوئے واضح ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اے ایس آئی کی رپورٹ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی فیصلہ پڑھتے ہوئے رنجن گگوئی نے کہا کہ یہ کسی بھی طرح صاف نہیں ہے کہ مندر توڑ کر مسجد تعمیر کی گئی۔
Chief Justice of India Ranjan Gogoi: Babri mosque was built by Mir Baqi. It is inappropriate for the Court to get into area of theology. #AyodhyaJudgment https://t.co/XxWo9I5pJO — ANI (@ANI) November 9, 2019
شیعہ وقف بورڈ کی عرضی خارج
اس سے قبل فیصلے کے آغاز ہی میں پانچ رکنی بنچ میں شامل سبھی ججوں نے آپسی اتفاق سے شیعہ وقف بورد کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ اپنا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ یہ فیصلہ عقیدہ یا مذہبی سوچ کو سامنے رکھ کر نہیں لیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے واضح لفظوں میں کہا کہ بابری مسجد بابر کے دور میں بنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو بھی خارج کر دیا ہے۔ نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو لمیٹیشن سے باہر کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جج ایس اے بوبڈے، جج ڈی وائی چندر چوڑ، جج اشوک بھوشن اور جج ایس عبدالنذیر کی آئینی بنچ نے آج صبحخ ساڑھے دس بجے سے ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے طویل تنازع کا حتمی فیصلہ سنانا شروع کیا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر گزشتہ جمعہ کی شام ایک نوٹس جاری کرکے اس بارے میں معلومات دی گئی ہے۔ عام طورپر سنیچر کو سپریم کورٹ میں چھٹی ہوتی ہے اور ایسی امید ظاہر کی جارہی تھی کہ معاملہ میں 13سے 15نومبر کے بیچ فیصلہ آئے گا، لیکن غیرمتوقع طورپر فیصلے کے لئے کل کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ آئینی بنچ نے 40 دن کی سماعت کے بعد گزشتہ 17اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔