جمعہ نامہ: فریب ہے شیطان کا وعدہ اور امید ڈاکٹر سلیم خان

جمعہ نامہ: فریب ہے شیطان کا وعدہ اور امید
ڈاکٹر سلیم خان
یو ٹیوب کے لاکھوں صارفین مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی کی تقاریر دیکھتے ہیں۔ اس مقبولیت کا سبب ان کا عام فہم لب و لہجہ اور متنوع مبنی بر واقعات بیانات ہیں۔ عام لوگ یکے بعد دیگرے ان کی ویڈیوز دیکھتے چلے جاتے ہیں مگر ان کی طبیعت بوجھل نہیں ہوتی۔انہوں نے رزق اور توکل کے حوالے سے ایک واقعہ اس طرح بیان کیا کہ کوئی اجنبی شخص ان کے پاس آکردیر تک روتا رہا ۔ جب وہ خاموش ہوا تو مولانا نے اس سے رونے کی وجہ دریافت کی ؟ اس نے بتایا ’میں برباد ہوگیا ۔ میری زندگی بھر کی کمائی لٹ گئی ۔ میرا مستقبل تاریک ہوگیا‘ ۔ مولانا نے تفصیل طلب کی تو اس نے بتایا کہ وہ سرکاری ملازم تھا ۔ حکومت نے بوڑھے اور مہنگے ملازمین کو قبل ازوقت سبکدوش کرکے فعال نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا ارادہ کیا سرکاری خزانے کا بوجھ بھی کم ہو اورعوام کو بہتر خدمات مہیا کی جائیں ۔ اس اسکیم کے تحت وہ یکمشت سولہ لاکھ روپئے لے کر ریٹائر ہوگیا ۔ اس نے وہ رقم اپنے بچوں کی تعلیم اور شادی کے لیے محفوظ کردی اور خود ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرکےگذر بسر کرنے لگا۔
اس کے ایک لالچی دوست کوجب اس جمع پونجی کا پتہ چلا تو وہ خیر خواہ بن کر آدھمکااور دن بہ دن روپیہ کی گرتی قیمت کا حوالہ دے کر کاروبار میں سرمایہ کاری کی پیشکش کردی تاکہ آمدنی بھی ہوتی رہے اور سرمایہ بھی محفوظ رہے۔ وہ آدمی پہلے تو ہچکچایا لیکن دوست کے اصرار پر بیوی سے مشورہ کیا ۔ ذہین بیوی درمیان کا راستہ نکالتے ہوے بولی نصف رقم کاروبار میں لگا دو اگر ڈوبا بھی تو آدھا بچ رہے گا ۔ وہ شخص راضی ہوگیا ۔ اس کا دوست ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو بلاناغہ پچیس ہزار منافع دینے لگا ۔ ایک سال میں اعتماد حاصل کرنے کے بعد دوست نے کہا اگر باقیماندہ رقم بھی کاروبار میں لگا دی جائے تو منافع دوگنا سے بھی زیادہ ہوجائےگا۔ بیوی کے زور دینے پر وہ شخص آمادہ ہوگیا ۔ پورے سولہ لاکھ لے لینے کے بعد دوست نے تجارت کے دیوالیہ ہو جانے کا اعلان کردیا ۔ اس طرح ایک جعلساز نےاس شخص کو اسی کے تین لاکھ لوٹا ئے اور باقی تیرہ لاکھ کا مالک بن گیا ۔ اس کے بعد مولانا نے اسے کھاد کی تجارت کا مشورہ دیا اور چند سالوں میں وہ پھر سے مالا مال ہوگیا ۔
اس واقعہ کو سننے کے بعد بے ساختہ بابا آدم ؑ اور حوا مائی کی یاد آگئی۔ ارشادِ ربانی ہے ’’ پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ “تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، ‘‘۔وہ شخص بھی اپنی بیوی کے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی گذار رہا تھا۔ اسی کے ساتھ رب کائنات نے آدم و حوا کو آزمائش کے لیے یہ حکم بھی دیا کہ ’’ اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے‘‘(البقرہ35) ۔ اس شخص کے لیے بھی سود جیسی مستقل ومتعینہ آمدنی آزمائش بن کر آئی جس کو شریعت حرام ہے۔ روز ازل کے اس واقعہ میں خیر خواہی کا لبادہ اوڑھے بد خواہ دوست اور شیطان لعین کے درمیان مماثلت دیکھیں ارشادِ قرآنی ہے ’’ اس نے ان سے کہا، “تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔ اس طرح دھو کا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا(اعراف ۲۰، ۲۱)۔
حضرت آدم ؑ کو دنیا میں روانہ کرتے ہوئے رب کائنات نے خبردار کردیا تھا کہ ، “اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ‘‘(البقرہ ۳۷)۔ اولادِ آدم کے ساتھ یہ آزمائش بار بار پیش آتی ہے۔ انسان اس حقیقت کو بھول کرکہ شیطان کھلا دشمن ہے اس کے پھیرے میں آجاتا ہے لیکن اگر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور وہ سچے دل سے توبہ کر لے تو مغفرت کرنے والی ذاتِ والا صفات اس کو اپنے دامن رحمت میں لے لیتی ہے اور وہ اپنی گم گشتہ جنت کا حقدار بن جاتا ہے ورنہ دنیا و آخرت کا خسارہ اس کا مقدر بن جاتی ہے۔