اسلام میں فریضئہ حصولِ علم , صائمہ صدف بنت محمد شکیل احمد

اسلام میں فریضئہ حصولِ علم,
صائمہ صدف بنت محمد شکیل احمد

جہالت ایک ایسا اندھیرا ہے جو اپنے ساتھ کئی برائیوں کو لے کر آتا ہے. ایسی برائیاں جو معاشرے کو کھوکلا کر دیتی ہیں. اور جس کا علاج علم کی روشنی سے ہی ممکن ہے. علم و شعور ہی ہے جو انسان و جانور میں تمیز کرتا ہے اور علم ہی وہ خوبی ہے جس کی بنا پر آدم کو فرشتوں پر فوقیت دی گئی.  علم کی اہمیت و ضرورت ہے آج کوئی انکار نہیں کر سکتا. علم ہی ہے جو تاریکیوں سے روشنی اور کامیابی کی جانب انسان کی رہنمائی کرتا ہے. دنیا نے بےشمار مثالیں دیکھی ہیں کہ کس طرح تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوکر کئی لوگوں کی زندگی یکسر بدل گئی. آج ہم دیکھتے ہیں کے اکثریت اس بات کو قبول کر چکی ہے کہ ترقی و فلاح کا راستہ علم کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے. اور اس لیے ہر جگہ ہی اسکول, کالجز, مدرسوں اور یونیورسٹیز وغیرہ میں تعلیم وتربیت کا کام جاری ہے. لیکن اس کے باوجود علم سے متعلق کچھ غلط فہمیاں  ہمارے معاشرے میں کثرت سے پائی جاتی ہیں. ان کو سمجھنا اور حل پیش کرنا اشد ضروری ہے. 
پہلی غلطی ہے کہ ہم نے علم کی تقسیم کردی. دینی علم اور عصری علم کے نام پر تعلیم کو اس طرح مختص کر دیا کے دونوں بالکل جدا جدا ہو گئے. دوسری کوتاہی لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کی طرف سے غفلت کی شکل میں ہوئی.  اسلام میں ان دونوں باتوں کی جگہ نہیں ہے. اسلام تاکید کرتا ہے کہ علم کا حاصل کر ہر مسلمان پر فرض ہے. یہاں نہ عورت و مرد کی تفریق کی گئی ہے نہ دینی و عصری علم کی تقسیم بلکہ مسلمان ہر نفع بخش علم کے حصول کو لازم سمجھے.آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی تعلیم و تربیت پر خاص زور دیا. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا. “جس کی تین بیٹیاں ہوں وہ ان کی تربیت کرے ان کا نکاح کردے اور ان کے ساتھ بہتر سلوک کرے اسکا ٹھکانہ جنت ہے. ” (سنن ابی داؤد) ایسا ہی حکم ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا کہ “جس کے پاس باندی ہو وہ اسکو تعلیم دے اور بہتر تربیت دے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے.” (بخاری).  اس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے خواتین جو کہ امت کا نصف حصہ ہیں ان کی تعلیم و تربیت کو کتنا اہم قرار دیا ہے.اوپر بیان کی گئی دونوں غلط فہمیوں کی اصل وجہ مقصد علم سے ناواقفیت ہے. آج ہر کوئی تعلیم کی ضرورت تو محسوس کرتا ہے لیکن اس کے اصل معنی اور مقصد سے غافل ہے. اب یہ علم براۓ  معلومات علم برائے ڈگری اور علم برائے معاش تک محدود ہے. اپنے لیے تعلیمی میدان ان کا انتخاب بھی انہی باتوں کو ذہن میں رکھ کر کیا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیں تعلیم سے وہ اثرات نظر نہیں آرہے جن کے ہم طالب ہیں. اس معاشرے کی اکثریت نام نہاد تعلیم یافتہ افراد ہیں اور اس کے با وجود یہی معاشرہ ہے جو تیزی سے تنزلی کا شکار ہے اس لیے تعلیم کا اصل مقصد جاننا ہمارے لیے بہت ضروری ہے 
      اسلام میں علم حاصل کرنے کا پہلا اور اہم ترین مقصد خدا کی معرفت , خدا کی پہچان حاصل کرنا ہے. علم انسان کو خدا شناسی سکھاتا ہے. اہل علم ہی اللہ کے پیغام کو سمجھنے نے اور اس کے مطابق اپنے زندگی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. سورۃ عنکبوت آیت نمبر ۳۴ میں فرمایا گیا  ہے “اورہم یہ مثالیں لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں اور اہل علم ہی اس طرح کی چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں” اسلام جب علم حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ علم انسان کی ابدی روحانی حقیقتوں کا ادراک کرا سکے کے اور اسے بصیرت سے مالا مال کرے. اپنے مالک حقیق پر ایمان کو پختگی بخشے. اس کے علاوہ تعلیم کے مقصد فردمیں فلاح انسانیت کا جذبہ اور خدمت خلق کا جذبہ پیدا کرنا ہے. حق و باطل کی تمیز اور اعلیٰ اخلاق کے فروغ دینا ہے. یہی وجہ ہے کے اسلام میں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی خاص تاکید کی گئی ہے. کیونکہ وہ خواتین ہی ہیں جو نسلوں کی تربیت کرتی ہیں. قوم کا مستقبل ان کی گود میں پروان چڑھتا ہے. اسی لیے یہ بجا کہا جاتا ہے کہ ایک خاتون کے تعلیم یافتہ ہونےسے پورا گھر تعلیم یافتہ ہو جاتا ہے. علم نہ صرف سیرت و کردار سازی میں معاون ہوتا ہے بلکہ صلاحيتوں کی نشونما کے لیے بھی ضروری ہے. اس لیے اگر اسلامی خطوط پر علم کے حقیقی مقصد کو سامنے رکھتے ہو ہمارے نظام تعلیم کی بنیاد رکھی جائے تو بے شک علم میں اتنی طاقت ہے کہ معاشرے میں صالح انقلاب لایا جا سکتا ہے.
صائمہ صدف بنت محمد شکیل احمد ممبر جی آئی او نالا سوپارہ