خوف موت ہے اور ایمان زندگی ,عمر فراہی

خوف موت ہے اور ایمان زندگی ,عمر فراہی
Justice delayed is justice denied انگلش کا مشہور قول ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا انکار ہے ۔دور جہالت میں ناانصافی اور جبر کی بے شمار شکایتیں تو ملتی ہیں لیکن انصاف کے نام پر قانونی ڈرامے بازی کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد دور خلافت ملوکیت اور بیسویں صدی کی نام نہاد مسلم سلطنتوں کے دور میں بھی ممکن ہے کچھ غلط فیصلے ہوئے ہوں مگر انصاف کے حصول کیلئے عوام نے کبھی تاخیر کی شکایت نہیں کی ۔اس کے برعکس آج اگر انصاف اور قانون کی ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں تو یہ وہی قدیم بادشاہوں کا ہی دور ہے اور کل اگر عدالتی اور قانونی بدعنوانی کی مثال دی جائے گی تو وہ یہی ہمارا سنہرا جمہوری دور ہوگا !جدید دور جمہوریت میں قلمی جہاد اور دانشوری کا سیلاب تو ضرور دکھائی دیتا ہے لیکن یہ جہاد بھی ارباب اقتدار کو قانون کا پابند بنانے سے قاصر ہے ۔ارباب اقتدا رقانون کے پابند ہوتے تو قلم کو اتنی بےچینی اور شدت کے ساتھ کاغذ پر رقص کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی اور نہ ہی ڈیجیٹل میڈیا کے مہارتھی ٹوئٹر فیس بک اور یو ٹیوب پر بےبسی کے گھوڑے دوڑا رہے ہوتے ۔سچ تو یہ بھی ہے کہ دانشوری بھی برائے فروخت ہے ۔ چیخنا چلانا بھی ایک فن ہو چکا ہے اور ذرائع ابلاغ نے فنکاری اور صنعت کا درجہ اختیار کر لیا ہے ۔بر صغیر کے مقابلے میں یوروپی میڈیا اور عدالتوں نے تو کچھ اپنے وقار کو زندہ رکھا ہے لیکن جب میں امریکہ میں ایک خاتون کی حیثیت سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ٹارچر کئے جانے کے بعد انہیں عمر قید کی سزا دیئے جانے کا تصور کرتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔یوروپ اس معاملے میں تنہا نہیں ہے جہاں چوڑیوں اور مہندی سے سجنے والی نازک کلائیوں کو کف زنجیر کیا گیا ۔ایران میں ریحانہ جبار مصر میں زینب الغزالی اور سید قطب کی بہن کے علاوہ شام کیہبہ الدباغ اور ان کی کئی سہیلیوں نے دسیوں برس جیل کی کال کوٹھریوں کے دن رات کی اذیتوں کو برداشت کیا ہے اور اب السیسی کے دور میں ایک نہیں درجنوں اسماء بلتاجی پابند سلاسل ہیں ۔ظاہر سی بات ہے جب یوروپ اور مسلم ممالک میں جمہوری جبر کی اس خوبصورت روایت کا جشن منایا جائے تو بھارت کیوں پیچھے رہے ۔بھارت کی جیلوں میں جو مسلم خواتین قید ہیں ان کا فیصلہ تو سرد خانوں کی زینت بنا ہوا ہے ہمارے ملک نے 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی مہم کو جس سنجیدگی سے لیا ہے پہلی بار 2004 میں ممبراکی ایک غریب لڑکی عشرت جہاں کو لشکر طیبہ سے جوڑ کر احمدآباد کی ایک سنسان سڑک پر قتل کرکے پھینک دیا گیا ۔جس طرح سے عشرت اور اس کے ساتھ تین نوجوانوں کو شہید کرکے سڑک پر لٹایا گیا تھا ایسا نہیں لگتا تھا کہ انہوں نے پولیس کے ساتھ کوئی مقابلہ آرائی کی تھی مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ جب سیاںبھئے کوتوال تو اب ڈر کاہے کا ۔ابوالکلام صاحب دلی کے فساد میں بے بس مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور ہندو مجاہدین آزادی کے بدلے ہوئے رویے پر صرف اتنا ہی کہہ دیتے کہ ہندوستان نے آزادی کی جنگ جیت لی ! اب ہندوستان کو دوسری آزادی اور کسی ابوالکلام کی ضرورت نہیں ہے تو بھی کافی تھا!مگر وہ ایک رشتے کو خاموشی کے ساتھ نبھا کر سو گئے۔آج کے تناظر میں پروین شاکر کا یہ شعر بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے کہ ؎  لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس /سورج کی شہہ پہ تنکے بھی بے باک ہوگئے/جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں /بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے۔ہمارا کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ جیل میں اپنی اکلوتی اولاد خواجہ یونس کا مقدمہ لڑتے لڑتے ان کے والدین اللہ کو پیارے ہوگئے۔ عشرت جہاں کی بیوہ ماں جو چودہ سال سے اپنی بیٹی کو بے قصور ثابت کرنے کیلئے قانونی جدو جہد کر رہی تھی وہ تھک چکی ہے !ممبرا اور ممبئی کے سیاستدانوں کو اس عورت کی مظلومیت سے جو فائدہ اٹھانا تھا اٹھا چکے اب انہیں بھی اس مقدمے میں کوئی رومانس نظر نہیں آرہا ہے ۔عشرت جہاں کی ماں کا اپنی قانونی جدو جہد سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ صحیح ہے یا غلط ،پتہ نہیں ،لیکن شمیمہ بی بی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے ۔ جمہوری عدالتوں کا چکر کاٹتے ہوئے وہ خواجہ یونس کے والدین کا حشر ضرور دیکھ چکی ہونگی ۔شمیمہ بہن کو پھر حکومت کا احسان مند ہونا چاہئے کہ انہیں ان کی بیٹی کی لاش سونپ دی گئی نجیب کی ماں کو تو ان کے بیٹے کی لاش بھی نہیں ملی افضل گرو تو بہرحال دہشت گرد تھا !اس کی بیوی اور بچے پر رحم کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا ! شمیمہ کے سامنے بابری مسجد کا مقدمہ بھی ستر سالوں سے حل طلب ہے جسے پوری قوم مل کر لڑ رہی ہے پھر بھی شک کی گنجائش موجود ہے ۔آخر ایک بیوہ عورت جمہوری قانون کے پیچیدہ سفر کو تنہا کیسے سفر کر سکتی ہے ؟یقیناً بھارت میں عدالتوں سے انصاف کا حصول صحرا میں سراب کے مانند ہوچکا ہے ۔ہمارا معاشرہ بے غیرت سیاست دانوں کی زد میں ہے اور اب تو عدلیہ بھی ان کے دباؤ سے آزاد نہیں ہے ۔اس کا اعتراف سپریم کورٹ کے جج بھی کر چکے ہیں ۔ان شاء اللہ Benefit of doubts کی بنیاد پر ہندوؤں کے وکیل بابری مسجد کا مقدمہ بھی مندر کے حق میں فتح کر لیں گے ۔حالانکہ مسلمانون کو خوش کرنے کیلئے ماحول ایسا بنایا جارہا ہے کہ سارے ثبوت مسجد کے حق میں ہیں فیصلہ مسجد کے حق میں ہی آئے گا مگر دیکھنے والی آنکھیں چمن کی شوخ اور چنچل ہواؤں سے اندازہ کر سکتی ہیں کہ فیصلہ اگر مسجد کے حق میں آنا ہوتا تو اتنے طویل قانونی سفر کی ضرورت بھی کیا تھی ؟کشمیری لیڈران کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے خلاف سپریم کورٹ گئے ہیں عدالتیں انہیں بھی مایوس نہیں کریں گی !کشمیر کے اس مسئلے کے حل کیلئے عدالت یوں ہی دو ٹوک فیصلہ کبھی نہیں دے سکتی اور نہ ہی یہ جمہوری عدالتوں کی روایت ہے ۔یقینا کشمیر کے پر امن حالات کے جائزے کیلئے ایک کمیشن بٹھا دیا جائےگا جیسا کہ کمیشن بھی جمہوریت کی ایک ایسی خوبصورت روایت اور بدعت ہے جس نے مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اور پیچیدہ کیا ہے ۔لبراہن کمیشن ناناوتی کمیشن شری کرشنا کمیشن وغیرہ وغیرہ کی مثال تو ہندوستان کی ہے ۔1920 کے بعد جب یہودی برطانیہ کے زیر تسلط فلسطینی علاقوں میں گھس کر مکمل قبضے کی تیاری میں سرگرم ہوئے تو فلسطینیوں کی ہر شکایت کے جواب میں حکومت برطانیہ ایک کمیشن بٹھا کر انہیں مطمئن کر دیتی اور وہ ہر بار انصاف کی امید میں خاموش ہو جاتے ۔بالآخر ایک دن یہودی رہنماؤں نے پوری تیاری کے ساتھ ریاست اسرائیل کا اعلان کر دیا اور اس نوزائیدہ ریاست کو دنیا نے تسلیم بھی کر لیا ۔ پھر بھی مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے دنیا کی اعلیٰ عدالتوں سے اوپر بھی ایک عدالت ہے ۔ ایک فیصلہ حاکموں کے حاکم کی طرف سے بھی ہوتا ہے ۔ہو سکتا ہے اس فیصلے کو ہم اپنی زندگی میں دیکھ لیں یا ہم دیکھنے کیلئے زندہ نہ رہیں لیکن دنیا جس تیزرفتاری کے ساتھ کروٹ بدل رہی ہے یہ مشکل دور بھی گزر جائے گا بس اپنی نسلوں پر خوف مسلط نہ ہونے دیں کیونکہ خوف موت ہے اور ایمان زندگی ۔