ربط و ضبط اور دعوت و عزیمت

ربط و ضبط اور دعوت و عزیمت
ڈاکٹر سلیم خان
مولانا ارشد مدنی دامت برکاتہم کی شری موہن بھاگوت سے ملاقات مولانا محمود مدنی کے بیانات ذرائع ابلاغ میں موضوعِ بحث بن گئے ہیں ۔اس ملاقات پربھوپال سے کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے آر ایس ایس کے سربراہ سے ملاقات پر استفسار کیا اور جمعیۃ علما ہند کے صدرسے تفصیلات ظاہرکرنے کی درخواست کی۔ ذرائع ابلاغ میں یہ سوال بھی کیا گیا کہ ‘‘کیا اس ملاقات سے موہن بھاگوت سدھر جائیں گے؟’’ ان ناپختہ سوالات کی بابت قرآن حکیم کے سورہ بقرہ میں آیت ۲۲۰ کے اندر رہنمائی موجود ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نبیٔ کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرنے کے بعد فرماتا ہےکہ ‘‘اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں، ان کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو’’۔ اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ توفیق دینا یا اس سے محروم رکھنا صرف اور صرف اللہ رب العزت کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اسلام کی دعوت کو قبول کروانے کی ذمہ داری بشمول انبیاء کے کسی انسان پر نہیں ڈالی گئی اس لیے مولانا ارشد مدنی مد ظلہ سے کیے جانے والے یہ سوالات لایعنی ہیں ۔اس تمہید کے بعد مذکورہ آیت کے پہلے حصہ کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ارشادِ ربانی ہے ‘‘ ہم نے تم کو علم حق کے ساتھ خوش خبری دینے والاا ورخبردارکرنے والا بنا کر بھیجا ’’ (۲:۱۱۹)۔یہاں پر چند الفاظ میں رب کائنات نے نبی کریم ﷺ کا فرضِ منصبی بیان کیا ہے اوریہی امت مسلمہ کا مقصدِ وجود بھی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کا تعارف اس طرح کرایا گیا کہ آپؐ کوئی خودساختہ مصلح نہیں ہیں بلکہ خالق کائنات کی جانب سے رسالت کے منصبِ جلیل پر فائز کیے گئے ہیں ۔ ہر بڑا منصب اپنے ساتھ شایان شان ذمہ داری لے کر آتا ہے۔ معرفتِ حق کا اولین تقاضہ تو یہ ہے کہ انسان خود اس کے مطابق زندگی گزارے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ انبیاء پر بحیثیت پیغامبر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ بنی نوع انسان تک اسلام کی دعوت کو پہنچایا جائے۔ اس کی ادائیگی کا طریقۂ کار یہ بیان کیا گیا کہ آپؐ عوام الناس کو بشارت یعنی جنت کی خوشخبری دیں اور عذابِ جہنم سے خبردار کریں یا ڈرائیں۔
ملت اسلامیہ کا بھی یہی فرضِ منصبی ہے۔ فرمانِ ربانی ہے ‘‘اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک “امت وسط”(درمیانی امت) بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں (۲:۱۴۳)۔ اس گواہی کی تشریح کا کام رب کائنات نے کسی انسان پر نہیں چھوڑا بلکہ اپنی کتاب ہدایت میں دوسرے مقام پر اس طرح فرمادیا کہ‘‘اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں’’(۳:۱۰۴)۔ اس آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا گیا ہے کہ اور تمہیں وہ جماعت ہونا چاہیے جو خیر یعنی دین اسلام کی دعوت دے، اس لیے کہ ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخروئی چاہتا ہے۔
سورہ بقرہ کی آیت ۱۱۹ میں جس کا اوپر ذکر ہوا بشارت دینے اور خبردار کرنے سے قبل رب کریم نے اپنے ایک خاص فضل کا ذکر ایک لفظ ‘بالحق’ میں فرمادیا جو اس فرضِ منصبی کی ادائیگی میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ‘الحق’ کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں مثلاً انبیاء اور ان کے ماننے والوں کا بنیادی حق دعوت دین کی ترسیل ہے ۔دنیا کا کوئی قانون ان کو اس کام سے روک نہیں سکتا اور وہ کسی صورت اس ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ یہ مدعو کا بھی حق ہے کہ اس تک دعوت کو پہنچایا جائے بصورت دیگر وہ دربارِ الٰہی میں شکایت کرسکتا ہے۔ اس کامطلب علمِ حق بھی ہے کہ اس ذمہ داری کو اسی کی روشنی میں ادا کیا جائے گا۔ اس کام کو کرنے کے لیے لوگوں سے بلا امتیاز ربط و ضبط لازم ہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر انہیں بلایا بھی جاسکتا ہے مثلاً نبی کریم ﷺ کے ذریعہ اپنے اعزہ و اقرباء کوگھربلاکر ان کے سامنےاسلام کی دعوت پیش کرنا یا کوہِ صفا پر یاصباحا کی صدا بلند کرکے عام لوگوں کو متوجہ کرنےکے بعد دعوت پہنچانا ۔ نبی کریم ﷺ نے اسلام کی دعوت غلاموں اور ان کے آقاوں تک پہنچائی۔ سرداروں اوربادشاہوں سے بھی رابطہ کرکے اپنی ذمہ داری ادا کی ۔ امت کے لیے یہ حکمت عملی تاقیامت اسوۂ حسنیٰ ہے۔
غیر مسلمین سے تعلقات استوار کرنے کی خاطر اورنفرت و غلط فہمی کا ازالہ کرنے کے لیے بھی فی زمانہ رابطے ہموار کیے جاتے ہیں ۔ اس کوشش میں عام آدمی یا اعتدال پسند رہنما تو کوئی مزاحمت نہیں کرتا ۔ وہ اسلام کی دعوت کو سنتا ہے۔ اپنے شکوک و شبہات کو دور کرنےکی خاطر استفسار بھی کرتا ہے۔ اس کے بعد یا تو گوروفکر کے بعد قبول کرلیتا ہے یا مسترد کردیتا ہے۔ دعوت دین کی قبولیت داعی اسلام کےلیے راحتِ جان اور اس کا انکار گراں بار ہوتا ہے۔ ایسے میں خالق کائنات اپنے نبیؐ اور ان کے توسط سے ساری امت کی ڈھارس بندھاتے ہیں ، ‘‘اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ۔ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں ’’۔اختیار و عمل کی آزادی کا تقاضہ ہے کہ آزمائش دنیا کے دوران مذکورہ نشانی انسانوں کی نظروں سے اوجھل ہو اسی لیے اس کوحالت اخفاء میں رکھا گیاہے۔
اسلام دشمن عناصر تک بھی دعوت پہنچائی جائے گی اور ان میں سے جن کو توفیق ہو گی وہ اس کو قبول بھی کریں گے۔ ان غیر مسلمین سے جس طرح اہل ایمان یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا طریقہ اپنا ئیں اسی طرح وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ امت مسلمہ ان کا طریقۂ زندگی اپنائے ۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے اہل ایمان ‘لااکرہ فی الدین ‘ کی ہدایت کے پیش نظر زور زبردستی نہیں کرسکتے جبکہ مخالفین اس طرح کی پابندی کے روادار نہیں ہیں ۔وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ دباو ڈال کر اہل ایمان کوراہِ حق سے برگشتہ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ اس طرح کے منکرین حق کا مسلمانوں سے راضی ہوجانا ان کی عارضی مجبوری تو ہوسکتا ہے لیکن برضا و رغبت وہ ایسا ہر گز نہیں کرتے ۔ ارشادِ خداوندی ہے ‘‘یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو’’۔
ایسی صورت حال میں آیت کے اگلے حصے کی ہدایت ملاحظہ فرمائیں ‘‘صاف کہہ دوکہ راستہ بس وہی ہے، جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگراُس علم کے بعد، جو تمہارے پاس آ چکا ہے’’،۔ ایسے میں اگر شیطان اہل ایمان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ اس طرح صاف اور سیدھا موقف اختیار کرنے کے نتیجے میں یہ ہمارے دوست نہیں بنیں گے یا ان کی مخالفت میں مزید اضافہ ہوجائے گاتو اس کو رفع کرنے کی خاطر فرمایا‘‘ تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے’’۔ انبیاء کے حوالے سے تو اس کا امکان مفقود ہے کہ وہ خدانخواستہ دشمنان اسلام کی پیروی کریں لیکن ان کے پیروکار شیطان کے اس مایاجال میں پھنس سکتے ہیں ۔ اس لیے ان سے کہا جارہا ہے کہ یہ لوگ بظاہر دنیا میں تو تمہارے محافظ و مددگار نظر آتے ہیں وقت آنے پر دنیا میں بھی اپنے عہد سے پھر سکتے ہیں اور قیامت میں تو یہ بے یارومددگار کسی کام نہیں آئیں گے۔ دشمنانِ اسلام سے جب سابقہ پیش آئے تو سیرت نبوی ﷺ کا مندرجہ ذیل واقعہ امت کی رہنمائی کرتا ہے۔
‘‘ اشراف قریش سے چند آدمی ابو طالب کے پاس گئے اور بولے : ابو طالب ! آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ہے۔ ہمارے دین کی عیب چینی کی ہے۔ ہماری عقلوں کو حماقت زدہ کہا ہے اور ہمارے باپ دادا کو گمراہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا یا تو آپ انہیں اس سے روک دیں ، یا ہمارے اور ان کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ کیونکہ آپ بھی ہماری طرح ان سے مختلف دین پر ہیں۔ ہم ان کے معاملے میں آپ کے لیے بھی کافی رہیں گے۔اس کے جواب میں ابوطالب نے نرم بات کہی اور روادارانہ لب ولہجہ اختیار کیا۔ چنانچہ وہ واپس چلے گئے اور رسول اللہﷺ اپنے سابقہ طریقہ پر رواں دواں رہتے ہوئے اللہ کا دین پھیلانے اور اس کی تبلیغ کرنے میں مصروف رہے،لیکن جب قریش نے دیکھا کہ آپ دعوت الیٰ اللہ کے کام میں حسب سابق مصروف عمل ہیں تو زیادہ دیر تک صبر نہ کر سکے۔ بلکہ آپس میں خاصی چہ میگوئی کی اور ناگواری کا اظہار کیا۔ حتیٰ کہ ابوطالب سے دوبارہ زیادہ سخت اور سنگین لہجے میں گفتگو کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس فیصلے کے بعد سرداران قریش ابوطالب کے پاس پھر حاضر ہوئے اور بولے: ابو طالب ! آپ ہمارے اندر سن وشرف اور اعزاز کے مالک ہیں ، ہم نے آپ سے گزارش کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو روکیے لیکن آپ نے انہیں نہیں روکا۔ آپ یاد رکھیں ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے اباء واجداد کو گالیاں دی جائیں۔ ہماری عقل وفہم کو حماقت زدہ قرار دیا جائے اور ہمارے معبودوں کی عیب چینی کی جائے۔ آپ روک دیجیے ورنہ ہم آپ سے اور ان سے ایسی جنگ چھیڑ دیں گے کہ ایک فریق کا صفایا ہو کر رہے گا۔ابو طالب پر اس زور دار دھمکی کا بہت زیادہ اثر ہوا اور انہوں نے رسول اللہﷺ کو بلا کر کہا : بھتیجے ! تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے اور ایسی ایسی باتیں کہہ گئے ہیں۔ اب مجھ پر اور خود اپنے آپ پر رحم کرو۔ اوراس معاملے میں مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو میرے بس سے باہر ہے۔یہ سن کر رسول اللہﷺ نے سمجھا کہ اب آپ کے چچا بھی آپ کا ساتھ چھوڑدیں گے اور وہ بھی آپ کی مدد سے کمزور پڑ گئے ہیں۔ اس لیے فرمایا : چچا جا ن ! اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے داہنے ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں کہ میں اس کام کو اس حد تک پہنچائے بغیر چھوڑ دوں کہ یا تواللہ اسے غالب کردے یا مَیں اسی راہ میں فنا ہو جاؤں تو نہیں چھوڑ سکتا۔اس کے بعد آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ، آپ روپڑے۔ اور اٹھ گئے۔ جب واپس ہونے لگے تو ابوطالب نے پکارا اور سامنے تشریف لائے تو کہا : بھتیجے ! جاؤ جو چاہو کہو۔ اللہ کی قسم! میں تمہیں کبھی بھی کسی بھی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا’’( اقتباس : الرحیق المختوم )
آر ایس ایس اور دیگر فسطائی تحریکوں کا اسلام پسندوں سے رابطہ کاری کو سورہ القلم کی اس آیت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے’’پس (اے نبیؐ )! آپؐ ان جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آئیں! یہ تو چاہتے ہیں کہ آپؐ کچھ ڈھیلے پڑیں، کچھ مداہنت کریں تو یہ بھی ڈھیلے پڑیں اور مداہنت کا رویہ اختیار کر لیں ’’۔ باطل کے پاس چونکہ نہ تو معیار حق ہوتا ہے اور نہ جوابدہی کا تصور اس لیے وہ دنیوی فائدے کے لیے ہر قسم کی مصالحت کے لیے تیار ہوسکتے ہیں لیکن اہل اسلام کے حدود قیود متعین ہیں۔ وہ اسلام کی عطا کردہ وسعت کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے حقدار ہیں لیکن خدائےبزرگ و برتر کی نافرمانی پر کسی صورت راضی نہیں ہوسکتے۔ ایسے میں اہل ایمان کو طاغوت کی ریشہ دوانیوں سے سورۂ انعام کی آیت ۷۳ کی ہدایت کے مطابق نمٹنا چاہیے‘‘ اے محمدؐ، ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اُس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنا لیتے’’۔
اس آیت میں باطل کے علمبرداراپنی رفاقت کو وحی الٰہی کے بالائے طاق رکھنے یا اس میں ہذف واضافہ سے مشروط کرنے کا اشارہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پسندیدہ خلافِ حق باتیں اسلام کے لبادے میں پیش کی جائیں ۔ اس طرح گویا وہ وحی الٰہی کے اندر اپنی مرضی شامل کروانے کے خواہشمند ہوتے ہیں ۔ مسلمانوں میں ایسے دانشوروں کمی نہیں ہے جو اسلام کو معتدل(موڈریٹ) بنانے کی وکالت کرتے ہیں ۔ اس کا مقصد باطل کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتاہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس طرز عمل کو اختیار کرنے والے عالمی سطح پر مغرب اور قومی سطح پر سنگھ پریوار کے منظور بن جاتے ہیں۔ ان حضرات کو اسلامی اخلاقیات و معاشرت کی ہر ایسی چیز بری لگتی ہے جو دشمنان اسلام کو کھٹکتی ہو۔ ان کو شریعت سے لے کر حجاب و جہاد تک ہر چیز سے وحشت ہوتی ہے کیونکہ وہ مغرب کو ناپسند ہے۔یہ نہ صرف باطل سیاسی نظریات کی اسلامی توجیہہ کرنےسے نہیں ہچکچاتے بلکہ ان کو عین اسلام قرار دے دیتے ہیں ۔ اس طرح کی پیشکش نبی کریم ﷺ کے سامنے بھی ہوتی تھی ۔ اس ضمن میں سورہ حٰم سجدہ کی تفسیر میں تفہیم القرآن کے اندر درج مندجہ ذیل واقعہ قابلِ توجہ ہے:
‘‘ ایک دفعہ قریش کے کچھ سردار مسجد حرام میں محفل جمائے بیٹھے تھے اور مسجد کے ایک دوسرے گوشے میں رسول اللہ ﷺ تنہا تشریف رکھتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت حمزہ ایمان لا چکے تھے اور قریش کے لوگ مسلمانوں کی جمعیت میں روز افزوں اضافہ دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہے تھے۔ اس موقع پر عُتبہ بن ربیعہ (ابو سفیان کے خسر ) نے سرداران قریش سے کہا کہ صاحبو، اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جا کر محمد ﷺ سے بات کروں اور ان کے سامنے چند تجویزیں رکھوں ، شاید کہ وہ ان میں سے کسی کو مان لیں اور ہم بھی اسے قبول کر لیں اور اس طرح وہ ہماری مخالفت سے باز آ جائیں۔ سب حاضرین نے اس سے اتفاق کیا اور عتبہ اٹھ کر نبی ﷺ کے پاس جا بیٹھا۔ آپؐ اس کی طرف متوجہ ہوٴئے تو اس نے کہا’’ بھتیجے، تم اپنی قوم میں اپنے نسب اور خاندان کے اعتبار سے جو حیثیت رکھتے ہو وہ تمہیں معلوم ہے۔ مگر تم اپنی قوم پر ایک بڑی مصیبت لے آئے ہو۔ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ ساری قوم کو بے وقوف ٹھیرایا۔ قوم کے دین اور اس کے معبودوں کی برائی کی۔ اور ایسی باتیں کرنے لگے جن کے معنی یہ ہیں کہ ہم سب کے باپ دادا کافر تھے’’۔
عتبہ نے اپنی تمہید میں نبی پاک ﷺ پر چند بے بنیا الزامات لگانے بعد کہا ‘‘اب ذرا میری بات سنو۔ میں کچھ تجویزیں تمہارے سامنے رکھتا ہوں ۔ ان پر غور کرو۔ شاید کہ ان میں سے کسی کو تم قبول کر لو‘‘۔ رسول ﷺ نے فرمایا ابولولید، آپ کہیں ، میں سنوں گا۔ اس نے کہا، ‘‘ بھتیجے، یہ کام جو تم نے شروع کیا ہے، اس سے اگر تمہارا مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم سب مل کر تم کو اتنا کچھ دیے دیتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہو جاؤ۔ اگر اس سے اپنی بڑائی چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بناٴئے لیتے ہیں ۔ اور اگر تم پر کوئی جِن آتا ہے جسے تم خود دفع کرنے پر قادر نہیں ہو تو ہم بہترین اطبا ء بلواتے ہیں اور اپنے خرچ پر تمہارا علاج کراتے ہیں ۔‘‘ عُتبہ یہ باتیں کرتا رہا اور حضورؐ خاموش سنتے رہے۔ پھر آپ نے فرمایا، ابوالولید آپ کو جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے؟ اس نے کہا، ہاں ۔، آپؐ نے فرمایا اچھا، اب میری سنو۔ اس کے بعد آپ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر اسی سورہ (حٰم سجدہ) کی تلاوت شروع کی اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے غور سے سنتا رہا۔ آیت سجدہ (38) پر پہنچ کر آپؐ نے سجدہ کیا، پھر سر اٹھا کر فرمایا، ’’ اے ابوالید، میرا جواب آپ نے سن لیا، اب آپ جانیں اور آپ کا کام’’۔
نبی کریم ﷺ سے قرآن کی ان آیات کو سن کر ‘‘ عتبہ سرداران قریش کی مجلس کی طرف چلا تو لوگوں نے دور سے اس کو دیکھتے ہی کہا، خدا کی قسم، عتبہ کا چہرہ بدلا ہوا ہے، یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر یہ گیا تھا۔پھر جب وہ آ کر بیٹھا تو لوگوں نے کہا : کیا سُن آئے؟ اس نے کہا : ’’ بخدا، میں نے ایسا کلام سنا کہ کبھی اس سے پہلے نہ سنا تھا۔ خدا کی قسم، نہ یہ شعر ہے، نہ سحر ہے نہ کہانت۔ اے سردارانِ قریش، میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کلام کچھ رنگ لا کر رہے گا۔ فرض کرو، اگر عرب اس پر غالب آ گئے تو اپنے بھائی کے خلاف ہاتھ اٹھانے سے تم بچ جاؤ گے اور دوسرے اس سے نمٹ لیں گے۔ لیکن اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمہاری بادشاہی، اور اس کی عزت تمہاری عزت ہی ہو گی۔‘‘ سرداران قریش اس کی یہ بات سنتے ہی بول اٹھے، ’’ ولید کے ابّا، آخر اس کا جادو تم پر بھی چل گیا۔‘‘ عتبہ نے کہا، میری جو رائے تھی وہ میں نے تمہیں بتا دی، اب تمہارا جو جی چاہے کرتے رہو’’۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب کوئی ہمیں بیجا الزامات کے ذریعہ مرعوب کرنے کی کوشش کرے یا ہمارے سامنے دل لبھانے والی شرا ئط رکھے تو نبی کریم ﷺ کی مانند بلا جھجک انہیں مسترد کرنے والی عزیمت ہی راہِ نجات ہے۔
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کوئی مسلمان باطل کا آلۂ کار نہیں بن سکتا ہے لیکن مذکورہ آیت کے باقی نصف میں فرمایا گیا ‘‘اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے’’۔ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے تو یہ تصور بھی محال ہے کہ وہ دوسری جانب ذرہ برابر بھی جھکیں لیکن ہم جیسےکمزور ایمان والوں کے ساتھ یہ اندیشہ لگا رہتا ہے۔ اسی لیے ہوشیار کیا گیا کہ اس بابت اللہ کی پناہ میں رہو ورنہ کمزوری پیدا ہوسکتی ہے ۔ اس کے بعد والی آیت میں رب کائنات باطل کی طرف جھکنے والوں کے بھیانک انجام سے آگاہ فرماتے ہیں ۔ ارشا د ربانی ہے‘‘  لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دوہرے عذاب کا مزہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دوہرے عذاب کا، پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے’’۔ یہاں پر عذاب دوہرا اس لیے ہے کہ ایسا کرنے والے اول تو خود گمراہی کی راہ اختیار کرتے ہیں نیز اسلام کو غلط انداز میں پیش کرکےکتمان حق کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ آخرت میں ان دونوں غلطیوں کی دوہری سزا مبنی بر انصاف ہے۔ اہل باطل سے رابطہ کرنا تو سنت رسولؐ توہے لیکن اس ملاقات کےدوران بھی سنت نبوی ﷺ پر عمل درآمد لازمی ہے۔ اس لیے ربط کے ساتھ ضبط اور دعوت کے شانہ بشانہ عزیمت بھی درکار ہے۔