ڈاکٹر راجیو دھون کو دھمکی دینے والوں کے خلاف نوٹس جاری دھمکی کو لیکر جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے داخل کی گئی پٹیشن سماعت کیلئے منظور

ڈاکٹر راجیو دھون کو دھمکی دینے والوں کے خلاف نوٹس جاری
دھمکی کو لیکر جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے داخل کی گئی پٹیشن سماعت کیلئے منظور
نئی دہلی 4 ستمبر
بابری مسجد ملکیت تنازعہ مقدمہ میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون کو چنئی کے پروفیسر شیموگنم کی جانب سے ملنے والی دھمکی کے خلاف داخل پٹیشن پر آج چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی اور پٹیشن کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے پروفیسر شیموگنم اور راجستھان کے رہنے والے سنجے کلال بجرنگی کو نوٹس جاری کردیاہے اورعدالت نے دو ہفتہ کے اندر نوٹس پر جواب طلب کیا ہے۔ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو ڈاکٹر راجیو دھون کو ملنے والی دھمکی کے تعلق سے بتایا جس کے بعد عدالت نے عرضداشت کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے اس معاملہ کی سماعت دو ہفتوں کے بعد کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ڈاکٹر راجیو دھون کی جانب سے داخل کردہ توہین عدالت کی عرضداشت کی سماعت بابری مسجد معاملہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ کے سامنے ہی ہوئی، جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیرشامل ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں چنئی کے ایک پروفیسر نے ڈاکٹر راجیو دھون کو خط لکھ کر بابری مسجد معاملہ میں مسلمانوں کی جانب سے بحث کرنے پر نہ صرف سخت پریشانی کا سامنا کرنے کی بات کہی تھی بلکہ انہیں بددعا بھی دی تھی۔ خط میں پروفیسر شنموگم نے لکھا تھا کہ تعجب ہے کہ ایک سینئر ایڈوکیٹ جس کا تعلق ہندو مذہب سے ہے اس نے اپنا ایمان فروخت کرکے مسلمانوں کی حمایت میں بحث کررہا ہے، پروفیسر شیموگنم نے خط میں ڈاکٹرراجیودھون کو یہ بھی لکھاہے کہ اس کے لئے ہندو تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔خط میں مزید لکھا ہے کہ ہم نے 1941 سے لیکر ابتک پچاس لاکھ مرتبہ گائتری منتر پڑھا ہے نیز 1958 سے لیکر اب تک ستائس ہزار مرتبہ گیتا پڑھی ہے اور ہم بددعا دیتے ہیں کہ جب وہ بحث کرنے کھڑے ہوں ان کی زبان پھسل جائے، پیر کانپنے لگ جائیں، آنکھ کی روشنی چلی جائیں اور آپ بہرے ہوجائیں وغیرہ وغیرہ۔ڈاکٹر راجیو دھون کو خط موصل ہونے کے بعد جمعیۃ علما ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے آئین ہندکی دفعہ 129 کے تحت توہین عدالت کی پٹیشن عدالت میں داخل کی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔
فضل الرحمن قاسمی: پریس سکریٹری جمعیۃعلماء ہند
9891961134