پاکستان کا کپتان ؟ از قلم ، ممتاز میر

پاکستان کا کپتان؟ از قلم ، ممتاز میر
جناب عمران خان نیازی آج پورے پاکستان کے کپتان ہیں۔پورا پاکستان آج ان کی قیادت میں بے حال ہے۔کبھی وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ہوا کرتے تھے۔اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم اس وقت دنیا کی طاقتور ترین ٹیم ہوا کرتی تھی۔مگر کبھی کبھی قسمت اوندھا بھی دیتی ہے۔۷۸۹۱ کے ورلڈ کپ میں سب کو امیدیں تھیں کہ خانصاحب کی کپتانی میں پاکستان یہ ورلڈ کپ جیت جائے گا۔مگر سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پاکستان کی امیدوں پر پانی پھیر کر انھیں گھر بھیج دیا تھا۔خانصاحب اتنے شرمندہ ہوئے کہ کپتانی سے استعفیٰ دیدیا۔ضیاء الحق زندہ تھے اور پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔خانصاحب کو پٹا لیا اور انھوں نے دوبارہ کپتانی سنبھال لی۔پھر ۲۹۹۱ کرکٹ کا ورلڈ کپ لے کر آگیا۔پاکستان کرکٹ کے ابتدائی دونوں میچ ہار گیا۔عمران خان کاکا ندھازخمی تھا اور وہ اسی حالت میں کھیل رہے تھے۔مگروہ بالنگ نہیں کررہے تھے۔اس پر روزنامہ جسارت کراچی میں ایک طنزیہ کالم شائع(غالباً وہ مشفق خواجہ/خامہ بگوش کا تھا)ہوا تھا۔اب اس کالم کا کچھ بھی یاد نہیں سوائے اس ایک طنزیہ جملے کے کہ عمران خان ٹیم کو کاندھا دے دیں گے۔یعنی ٹیم کو قبرستان پہونچا دیں گے۔شومئی قسمت ٹیم جیت گئی۔آج بھی حالات ایسے ہی ہیں۔لگتا ہے وہ پورے پاکستان کو کاندھا دیں گے۔   جناب عمران خان نیازی ۵۔اکتوبر ۲۵۹۱ مین پاکستانی پنجاب کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے۔پاکستان میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھیں آکسفورڈ بھیج دیا گیا۔جہاں انھوں نے ۵۷۹۱ تک پڑھا بھی اور کرکٹ کھیلنا بھی شروع کیا۔پاکستان واپس آنے کے بعد وہ پاکستان کی قومی ٹیم میں شامل ہوگئے۔اور اپنی بالنگ کی بنیاد پر قومی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی بن گئے۔ان کی کرکٹ،ورلڈ کپ جیتنے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔مگر جیت کے بعد اسی وقت پریس کانفرنس میں ان سے ایک غلطی ہوئی۔جیت کی خوشی یا اپنی والدہ کے نام پر کینسر اسپتال بنانے کا ان پر اتنا دباؤ تھاکہ جیت کا کریڈٹ پوری ٹیم کو دینے کے بجائے جیت کا سہرا انھوں نے اپنے سر باندھ لیا۔جس سے صرف ٹیم ہی نہیں پوری قوم ان سے ناراض ہوئی۔کافی تھو تھو کے بعد انھوں نے اس پر معافی مانگ لی۔اب وہ تن من دھن سے اپنی والدہ شوکت خانم جو کہ کینسر کی مریضہ تھیں کے نام پر کینسر اسپتال قائم کرنے میں جٹ گئے۔انھوں نے ۵۲ ملین ڈالر اسپتال کی تعمیر کے لئے جمع کئے۔بعد میں انھوں نے ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو بڑھاوا دینے کی خاطر نمل کالج بھی بنایا۔ساتھ ہی انھوں نے مستغرب کا رول بھی اپنا لیا۔اخبارات میں مغرب کے خلاف مضامین لکھنا شروع کیا۔جو مشرق ہی کے نہیں مغربی اخبارات میں بھی شائع ہوئے۔انھوں نے مغرب اور اس کی تہذیب کے دیسی عاشقوں کے لئے ایک اصطلاح وضع کی جو ان دنوں بہت چل نکلی تھی وہ تھی ’براؤن صاحب‘۔اس طرح انھوں نے جذباتی مسلم عوام میں نفوذ حاصل کیا۔بالآخر ۵۲ اپریل ۶۹۹۱ کو اپنی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے نام سے لانچ کردی حالانکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان مرحوم قاضی حسین احمد سے قربت کی بنا پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ جماعت کی سیاست میں شامل ہونگے۔مگر اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود جب انھیں شادی کا خیال آیا تو انھیں کوئی دیسی لڑکی پسند نہ آئی۔انھوں نے ایک انگلش یہودی لڑکی کو جمائما بنا کر شادی کی۔جبکہ انگلینڈ قیام کے زمانے میں ان کا نام سیتا وہائٹ نامی انگلش لڑکی کے ساتھ بڑا مشہور ہوا تھا جس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خانصاحب اس کی لڑکی کے باپ ہیں۔ خیر یہ کہا جاتا ہے کہ جمائما سے شادی سے ہی یہودیوں سے ان کی قربت بڑھی۔بھئی کچھ بھی کہو،آخر وہ یہودیوں کے داماد ہیں۔خیر!حسب توقع ان کی یہ شادی چل نہیں پائی اور محترمہ جمائما انھیں دو فرزند عطا کرکے رخصت ہوگئیں۔پھر دوسری شادی انھوں نے ایک خاتون صحافی ریحام خان سے کی۔مگر یہ شادی تو چند دن بھی نکال نہ پائی۔اب محترمہ ایک صحافی کے جو ہتھیار ہو سکتے ان تمام کے ساتھ خانصاحب پر حملہ آور ہیں۔مگر خانصاحب اب تیسری شادی کے مزے لوٹ رہے ہیں کہا جاتا ہے کہ یہ محترمہ ان کی یعنی خانصاحب کی روحانی پیر ہیں۔یہ بات بڑی عجیب و غریب ہے کہ خانصاحب کو یعنی ایک پٹھان کو پیر ملا بھی تو ایک خاتون میں اور پھر اس سے شادی۔ہم چونکہ اس علاقے سے بہت بہت دور رہتے ہیں اس لئے کہہ نہیں سکتے۔ہو سکتاہے ادھر کے قبائل میں خواتین بھی پیر ہوتی ہوں۔اور بہت ممکن ہے کہ یہ خاتون پیر ہی کا کمال ہو جو انھوں نے توہین رسالت کی مرتکب ایک خاتون کو نہ صرف رہا کردیا بلکہ بسرعت وعجلت اور بخیر و عافیت  ملک سے باہر بھی نکال دیا۔   کرکٹ سے رٹائرمنٹ سے لے کر سیاست میں آنے کے بعد کے ابتدائی دور تک یہ لگتا تھا کہ وہ کبھی مذہبی رہے ہوں یا نہ رہے ہوں مگر اب مذہب کی طرف ان کا رجحان بڑھا ہے۔اور سیاست میں کامیاب ہوئے تو بہت نہ سہی تھوڑا تو اپنے ضمیر کے مطابق بھی کام کریں گے مگر وزارت عظمیٰ کا ایک سال بتاتا ہے کہ نمک کی کان میں پہونچ کر وہ بھی نمک ہو گئے ہیں۔کوئی بات نہیں،سیاست ہے ہی ایسی چیز۔مگر ہندوساتانی پائلٹ کو پکڑ کر چھوڑ دینے میں انھوں نے جس خوف کا مظاہرہ کیا ہے وہ کم سے کم ہمارے لئے تو بہت ہی حیرت انگیز تھا یہ statesmanship کے بالکل خلاف ہے نہ کسی سے پوچھا نہ مشاور ت کی۔پاکستان کے کسی اخبار میں ہم نے پڑھا تھا کہ فوج کو بھی اس وقت معلوم ہوا جب انھوں نے ابھینندن کی رہائی کا اعلان کیا۔کسی سابق پاکستانی فوجی کی یہ دہائی بھی ہمارے پڑھنے میں آئی تھی کے ہم ابھینندن کے بدلے اپنے فلاں فوجی کو رہا کروا سکتے تھے۔اب جس سربراہ حکومت کے خوف کا یہ عالم ہو وہ ہمارے وزیر اعظم نریندر بھائی مودی سے مقابلے کی خالی خولی بڑھکیں ہی مار سکتا ہے۔اور جب فریق مخالف کا یہ حال ہو تو نریندر بھائی مودی اگر کشمیر پر قبضہ نہ کر تے تو بے وقوف کہلاتے۔پہلے ہی ان کے کھاتے بہت ساری بے وقوفیاں جمع ہیں۔نوٹ بندی تو شاید تا قیامت ان کا پیچھا نہ چھوڑے۔  پھر جس نواز شریف کی وجہ سے انھوں نے پاکستان کو میدان جنگ بنا رکھا ہے خود بھی تو اسی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔سود کے تعلق سے جناب کا بھی وہی موقف ہے جو نواز شریف کا تھا جمعہ کی چھٹی بھی پاکستان کے ’اسلام پسندوں‘کو کھٹکتی ہے۔امریکہ کی غلامی،یہ بھی حسب سابق کر رہے ہیں۔طالبان کے تعلق سے ان کا موقف بھی امریکہ کے اشارہ چشم ابرو کا محتاج ہے۔حالانکہ طالبان کا جنم ہی پاکستان میں تمام پاکستانی طاقتوں کے ایک پیج پر آنے کے بعد ہوا تھا۔کبھی ٹی وی اینکر اور کالم نگار جاوید چودھری نے عمران خان نیازی سے جنرل اشفاق کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے تعلق سے سوال کیا تھا۔خانصاحب کا جواب تھا کہ فوج پاکستان کا سب سے مضبوط و منضبط ادارہ ہے۔ان کے قانون کو کسی ایک شخص کی خاطر بدلنے سے ادارہ کمزور ہوگااسلئے ایسا کرنا غلط ہو گا۔مگر اب خانصاحب کی ضرورت اپنے پیشرو پرپر مقدم ہے اسلئے انھوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کردی ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔گو کہ ابھی تک انھوں نے ریاست مدینہ سے اس کی مثال نہیں دی مگر امید ہے دیں گے ضرور۔ممکن ہے ابھی مطالعہ جاری ہو۔ویسے نہ بھی دیں تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔وہ تو خود کہتے ہیں کہ وہ یو ٹرن ایکسپرٹ ہیں۔  ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پیارے وزیر اعظم نریندر بھائی مودی اور ہمارے دشمن عمران خان نیازی نے ایک ہی استاد سے سیاست کے سبق سیکھے ہیں۔دونوں نے انتخابی مہم میں وعدوں کی بارش کردی تھی اور انتخاب میں کامیابی کے بعد دونوں طرف کی بارش سوکھے میں تبدیل ہو گئی۔مودی جی کی طرح ہی خان صاحب نے کالا دھن پاکستان واپس لانے کا وعدہ کیا تھا جو ہنوز شرمندہء تعبیر ہے۔۰۵ لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ بھی تھا مگر ابھی تک ایک اینٹ بھی رکھی نہ جا سکی۔مودی جی کی طرح ہی صرف ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ تھا۔مگر یہاں کی طرح وہاں بھی بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔عافیہ صدیقی برسوں سے پاکستانی غیرت کا سمبل بنی ہوئی ہے۔حیرت ہے کہ جس فوج نے اسے امریکہ کے حوالے کیا تھا پاکستانی اس فوج کو سر پر بٹھاتے ہیں۔اس کو واپس لانے کا تو وعدہ ہی ہوا میں تھا ہوا میں ہے اور ہوا میں ہی رہے گا۔چند دن پہلے خبریں آئی تھیں کہ پاکستان کے غیر مسلم ممبر قومی اسمبلی نے کوشش کی تھی کہ پارلیمنٹ شراب کی ممانعت کا بل پاس کردے مگر ریاست مدینہ کے مومنین کو یہ گوارہ نہ ہوا۔خانصاحب نے مودی ہی کی طرح وہاں بھی معیشت کی مٹی پلید کرکے رکھ دی ہے۔دنیا بھر میں امداد کی بھیک مانگتے پھرے اور بھیک ملی بھی مگر پھر بھی آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسنا پڑا۔اب IMFجو شرائط منوارہا ہے اس نے عوام کو جانکنی کے عالم میں مبتلا کر دیا ہے۔ڈالر ۳۰۱ روپے سے ۰۷۱روپے پر پہنچ گیا ہے۔اسٹاک ایکسچیج لب گور ہے۔سی پیک پر کام رکا ہوا ہے۔اور جلد ہی چین کا قرض ادا کرنے کے لئے پاکستان کا کوئی نہ کوئی حصہ بیچنا پڑے گا۔بس عمران خان نیازی نے مودی کی طرح اچھے دنوں کی بات نہیں کی تھی۔مگر جس طرح مودی جی کو جس طرح یہاں ای وی ایم کا سہارا ہے اسی طرح خانصاحب کو وہاں ایمپائر کی انگلی کا سہارا ہے۔اسی لئے انھیں عموماًselected وزیر اعظم کہا جاتا ہے۔   قصہ یوں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہرالقادری نے مل کراس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف احتجاجات کا ایک طویل دور چلا یا تھا۔ظاہر ہے اس لمبے دور میں تقاریر بھی خوب ہوئی ہونگی۔اس دور میں خانصاحب کی تقاریر میں اکثر ایمپائر اور کی انگلی کا ذکر ہوتا تھا اس لمبے احتجاجی دور اور ایمپائر کی انگلی یا نظر کا فائدہ جناب عمران خان نیازی کو وزارت عظمیٰ کی صورت میں ملا۔مگر مولانا طاہر القادری جو بھاگ بھاگ کر بڑی دور سے آتے تھے،پھر یہ بھی دیکھا جائے کہ کس عمر میں آتے تھے،سراسر گھاٹے میں رہے۔اب ٹی وی پہ کیا وہ اخبارات میں بھی دکھائی نہیں دیتے۔   پھر سوال یہ ہے کہ ان حالات سے نپٹنے کے لئے کیا کیا جائے؟نواز شریف کے کرپشن بے شمار ہیں۔زرداری جو کبھی مسٹر ٹین پرسنٹ ہوا کرتے تھے،اپنے دور اقتدار میں مسٹر ۰۰۱ پرسنٹ بن گئے تھے۔اور جناب خان صاحب نے کرپشن کئے بغیر ہی ملک کو تحت الثریٰ میں پہونچا دیا۔جماعت اسلامی کو کوئی ووٹ دے گا نہیں کیونکہ وہ تو اچھوت ہے۔ویسے بھی جماعت کبھی نواز شریف کی گود میں بیٹھ جاتی ہے کبھی مولانا فضل الرحمٰن کو سر پہ بٹھا لیتی ہے۔کل ۰۱/۲۱ لوگوں کو تو الیکشن لڑاتی ہے۔پھر اسے ووٹ دینے کا فائدہ کیا حکومت تو بننا نہیں ہے۔تو پھر آخر کیا کیا جائے؟ہمارے پاس پاکستانیوں کے لئے ایک تجویز ہے۔   ۳۹۹۱ میں پاکستان کو ایک کار گزار وزیر اعظم کی ضرورت پڑی تھی۔انھیں چند ماہ کے لئے ڈھونڈے سے کوئی کار گزار وزیر اعظم نہ ملا تھا،پھرمعین قریشی نامی ایک پاکستانی امریکی کو جو کہ اس وقت ورلڈ بینک میں بطور نائب صدر کام کر رہا تھا،امپورٹ کرنا پڑا تھا۔اب اس صورتحال میں رجب طیب اردگان سے کہا جائے کہ وہ ترکی کے ساتھ ساتھ عارضی طور پر پاکستان کی سربراہی بھی کریں تو کیا حرج ہے۔ہمارا خیال ہے کہ ملک میں اس مسئلے پر ریفرنڈم کرا لیا جائے۔اگر رجب طیب اردگان اس کے لئے راضی نہ ہوں تو ان کی ٹکر کی ایک دوسری شخصیت بھی ہے۔بلکہ ہمارے نزدیک تو سب سے زیادہ موزوں یہی ہیں۔اس سے دونوں ملکوں کا بھلا ہوگا۔اور وہ شخصیت ہے احمد داؤد اوغلو کی،جو آجکل اے کے پارٹی کی ٹکر میں ایک دوسری پارٹی بنانے کے چکر میں ہیں۔سوچئے اگر وہ سابق صدر عبداللہ گل کے ساتھ مل کر ایک پارٹی بنا ہی ڈالتے ہیں تووہ ووٹ کس کے کھائیں گے؟اس لئے پاکستان اور ترکی دونوں کے حق میں بہتر یہی ہوگا کہ انھیں پاکستان بلا کر انگیج کر دیا جوئے۔