اعظم خان پھر نشانے پر، ’ہمسفر ریزارٹ‘ کی دیوار پر چلا ’بل ڈوزر‘

محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہو پایا تھا کہ جمعہ کے روز ان کے ہمسفر ریزارٹ کی دیوار پر انتظامیہ کی جانب سے بل ڈوزر چلوا دیا گیا ہے۔

رام پور: سماج وادی پارٹی کے قدآور رہنما اور رام پور سے رکن پارلیمان اعظم خان پر انتظامیہ کی طرف سے یکے بعد دیگرے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہو پایا تھا کہ جمعہ کے روز ان کے ہمسفر ریزارٹ کی دیوار پر انتظامیہ کی جانب سے بل ڈوزر چلوا دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ریزارٹ کی جس دیوار کو منہدم کیا گیا ہے اس کے حوالہ سے محکمہ آبپاسی کی طرف سے اعظم خان کو پہلے ہی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ یہ ریزارٹ ان کے بیٹے اور رکن اسمبلی عبد اللہ اعظم کے نام پر ہے۔

محکمہ آبپاسی کا الزام ہے کہ ’’ریزارٹ کی یہ دیوار آبپاسی محکمہ کی زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔ نیز اعظم خان کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد بھی کوئی اقدام ان کی طرف سے نہیں لیا گیا، لہذا مجبوراً ہمیں یہ قدم اٹھانا پڑ رہا ہے۔‘‘

محکمہ آبپاسی کی ٹیم مع پولس فورس موقع پر پہنچی اور ریزارٹ کی دیوار کو منہدم کر دیا۔ کسی بھی مزاحمت کے پیش نظر بھاری پولس فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔ ضلع انتظامیہ اس کے حوالہ سے مستعد ہے۔ پولس کو بھی اس کارروائی کے حوالہ سے اطلاع دے دی گئی تھی۔ ایس ڈی ایم نے تین ہفتوں پہلے ہی ہمسفر ریزارٹ کے ایک حصہ کو منہدم کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ الزام ہے کہ یہ دیوار محکمہ آبپاسی کی ایک ہزار مربع گز اراضی پر تعمیر کی گئی تھی۔

رام پور کے ضلع مجسٹریٹ آنجنی کمار سنگھ نے کہا، ’’یہ زمین پسیاپورہ شمالی سے بڑ کسیا نالے کی ہے۔ نالے پر قبضہ سے پانی کے اخراج میں دقت ہو رہی ہے۔ محکمہ آبپاسی کی طرف سے غیر قانونی قبضہ ہٹانے کے لئے نوٹس بھی دیا گیا ہے۔ اس پر کوئی سماعت نہ ہونے کی وجہ سے دیوار کو توڑ کر ہٹایا جا رہا ہے۔‘‘

اعظم خان پر الزام ہے کہ اکھلیش یادو کی حکومت کی مدت کار میں ریزارٹ کے لئے انہوں نے آبپاسی کے نالے کی ایک ہزار مربع گز اراضی پر غیر قانونی قبضہ کیا ہوا تھا۔ محکمہ کی جانب سے کئی مرتبہ اعظم خان کو نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے لیکن کوئی جواب موصول نہ ہونے پر آج کارروائی کی گئی ہے۔