ممبئی میں قربانی پر لٹکی تلوار، بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ سے مسلم طبقہ پریشان بمبئی ہائی کورٹ نے کچھ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ داخل کی گئی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عیدالاضحیٰ کے موقع پر رہائشی علاقوں میں قربانی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

12 اگست کو پورے ہندوستان میں عید قرباں کا جشن رہے گا اور سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانیاں بھی دی جائیں گی، لیکن ممبئی میں عدالت کے ایک فیصلے نے مسلمانوں کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اس بار عیدالاضحیٰ پر ان کے گھروں میں خوشیاں اس طرح نہیں جھومیں گی جس طرح گزشتہ سالوں میں بقرعید کے موقع پر جھومتی تھیں۔

دراصل بمبئی ہائی کورٹ نے منگل کے روز ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عیدالاضحیٰ کے موقع پر رہائشی احاطوں میں قربانی کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ جسٹس ایس سی دھرمادھیکاری اور جسٹس جی ایس پٹیل کی ایک بنچ نے یہ پابندی عائد کی۔ حالانکہ انھوں نے قربانی پر پوری طرح سے پابندی تو نہیں لگائی، لیکن جو متبادل انھوں نے پیش کیا ہے، اس سے اقلیتی طبقہ کے لیے کافی پریشانیاں کھڑی ہو گئی ہیں۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پرائیویٹ فلیٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیز میں جانوروں کا ذبیحہ نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے ممبئی میں جانوروں کو غیر قانونی طریقے سے اِدھر اُدھر لے جانے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ہر انٹری پوائنٹس کو چیک کیا جائے اور آر ٹی او اسے لے کر ورکشاپ منعقد کریں۔
این جی او ’جیو میتری ٹرسٹ‘ اور ’ونیوگ پریوار‘ نے بمبئی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر کہا تھا کہ جانوروں کے غیر قانونی ذبیحہ پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ اس کی وجہ سے صاف صفائی رکھنے میں پریشانی ہوتی ہے۔ عرضی گزار کے مطابق اگر گھروں میں جانوروں کو مارنے کی اجازت دی گئی تو گندگی پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا، اس لیے اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالتی بنچ نے گھروں میں قربانی نہ کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ سوسائٹیز کے ایک کلو میٹر کے دائرے میں بھی جانوروں کی قربانی نہیں دی جائے گی۔